نئی دلی: وکلاء کا چیف جسٹس پر توہین آمیز حملے کی مذمت کیلئے احتجاجی مارچ

نئی دلی: بھارت کے دارلحکومت نئی دلی میں وکلا نے ملک کے دلت چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوائی پر حالیہ توہین آمیز اورنفرت انگیزحملے کی مذمت کیلئے تیس ہزاری کورٹ کمپلیکس میں احتجاجی مارچ کیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مظاہرے میںوکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ،جن پر چیف جسٹس پر انکی نچلی ذات کی وجہ سے حملے بندکرنے کے مطالبے اورمودی حکومت کی بے حسی پر اظہارافسوس جیسے نعرے درج تھے ۔ مظاہرین سے پونم کوشک، چندر نگم اور نتن گوتم نے خطاب کیا۔انہوں نے مودی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی اعلی ترین عدالت کے جج کے وقار پر سنگین اور افسوسناک حملہ کیاگیاہے تاہم ابھی تک اس واقعے کی کوئی ایف آر بھی درج نہیں کی گئی ہے ۔ایڈووکیٹ کوشک نے کہاکہ حکومت کی خاموشی عدلیہ کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی سے روکنے اور خوف و دہشت کا نشانہ بنانے کی ایک کوشش ہے۔ مقررین نے کہاکہ بھارت میں بی جے پی کی حکومتیں خواتین اور پسماندہ کمیونٹیز کے خلاف گھنائونے جرائم میںملوث فرقہ پرست عناصر کا تحفظ کررہی ہے ۔وکلا نے آئینی اقدار کے دفاع، عدالتی آزادی کے تحفظ اور ہر قسم کی ذات پات کی بنیاد پر نفرت اور تشدد کی مخالفت کے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔






