مقبوضہ جموں وکشمیر :بھارتی فورسز نے8سو سے زائد نوجوان گرفتار کر لیے
گرفتار کیے جانے والوںمیں درجنوں لڑکیاں بھی شامل ہیں

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں بھارتی فورسز اہلکاروں نے 8سو سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتارکیے جانے والوں میں درجنوں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے ان افراد کو ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جارحیت اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف مظاہروں کی پاداش میں سری نگر، گاندربل، بڈگام، بانڈی پورہ، بارہمولہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپوں کے دوران گرفتار کیا۔
حریت کانفرنس نے ایک بیان میں بھارتی فورسز کی طرف سے گھروں پر چھاپوں اور بچیوں سمیت بڑی تعداد میں نوجوانوں کی گرفتار کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی مکمل طورپر سلب کررکھا ہے، کشمیری عوا م ایران پر ننگی جارحیت کیخلاف پر امن آواز بلند کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت پابندیوں ، گرفتاریوں کے ذریعے انکی آواز دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ جبر وا ستبداد کے یہ ہتھکنڈے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیاہے اور فورسز کو کالے قوانین کے تحت نہتے کشمیریوں کو دبانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی ہتھکنڈوں کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
یاد رہے کہ حریت کانفرنس نے ایران پر امریکی، اسرائیلی جارحیت کے خلاف کل بروز جمعہ مقبوضہ علاقے میں نماز جمعہ کے بعد پرامن مظاہروں کی کال دے رکھی ہے ۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے مظاہروں کو روکنے کیلئے علاقے میں کرفیوں جیسی پابندیاں نافذ کردی ہیں اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔







