مایاوتی کا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے پر بی جے پی رہنما کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
نئی دہلی:بھارت میں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ اور اتر پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ مایاوتینے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے پر بی جے پی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی راگھویندر پرتاپ سنگھ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم پیشہ اور سماج دشمن عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر معاشرے میں زہر گھول رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راگھویندر پرتاپ سنگھ نے اتر پردیش کے علاقے سدھارتھ نگر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دو ہندو لڑکیاں مسلمان بن گئی ہیں تو کم از کم 10مسلمان لڑکیاں لائو اوران کو ہندو بنائو۔اس کے بعد سنگھ نے مجمع میں موجود نوجوانوں سے پوچھاکہ کتنے نوجوان تیار ہیں، ہاتھ اٹھائو۔ نوجوانوں نے ہاتھ اٹھاکر اپنی رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے کہاکہ دوپر دس سے کم منظور نہیں ہے۔ شادی ہم کرائیں گے اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ جو کوئی لائے گا اسے کھانا پینا اور لائق نوکری بھی دلائیں گے۔ بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کے اس متنازعہ بیان پر جلسہ عام میں تالیاں گونج رہی تھیں۔مایاوتی نے اسے نفرت انگیز تقریر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتر پردیش سمیت دیگر ریاستوں میں فرقہ وارانہ اور ذات پات کی بنیاد پر نفرت کو ہوا دینے کی کوشش ہے۔انہوں نے سماج دشمن عناصر کی طرف سے کھیلے جا رہے زہریلے اور پرتشدد کھیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کچھ مجرم اور سماج دشمن عناصر تبدیلی مذہب اور نام نہاد لو جہاد کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں۔انہوں نے ایکس پرایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے سماج دشمن عناصر ایک مہذب اور آئینی حکومت کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں تحفظ دینے کے بجائے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔مایاوتی نے کہا کہ حکومتوں کو ان سماج دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی اور تحفظ کے بجائے ریاست کے کروڑوں لوگوں کے مفادات اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنی چاہیے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ نام نہاد لو جہاد کی اصطلاح ہندوتوا گروپوں نے وضع کی ہے جن کا مقصد ان کے مطابق ہندو لڑکیوں کو مسلم برادریوں میں شادی کرنے سے روکنا ہے۔واضح رہے بھارت میں ہندو توا تنظیمیں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے مختلف بہانے تلاش کررہی ہیں اورنام نہاد لو جہاد بھی ایک بہانہ ہے۔





