صدرٹرمپ کا دبائو کام کرگیا،بھارت امریکی درآمدات پر ٹیرف میں کمی پر آمادہ ہوگیا
نئی دہلی:بھارت نے 23ارب ڈالر کی امریکی درآمدات پر ٹیرف میں کمی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے تاہم ابھی اس کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی اخبار” انڈیا ٹوڈے ”کی ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے ایک حصے کے طور پربھارتی حکومت 23ارب ڈالر کی امریکی درآمدات کے نصف سے زیادہ محصولات میں کمی کے لئے تیار ہو گئی ہے۔یہ گزشتہ کئی سالوں میں ٹیرف کی سب سے بڑی کٹوتیوں میں سے ایک ہوگی جس کا مقصد برآمدات کو نقصان پہنچانے والے باہمی محصولات کو روکنا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی باہمی محصولات کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو 2اپریل سے لاگو ہونے والے ہیں۔ ان نئے محصولات نے منڈیوں کو درہم برہم کر دیا ہے اور امریکا کے کچھ مغربی اتحادیوں سمیت کئی ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔نئے امریکی محصولات سے امریکا کو بھارتی برآمدات کا 87 فیصد متاثر ہو سکتا ہے، جن کی مالیت تقریبا 66 ارب ڈالر ہے۔ اس اثر سے بچنے کے لئے بھارت 55فیصد امریکی درآمدات پر ٹیرف کم کرنے کے لئے تیار ہے جن پر فی الحال 5فیصد اور 30فیصد کے درمیان ٹیکس عائد ہے۔ کچھ درآمدی اشیا پر ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر اشیا پر ٹیرف مکمل طور پر ختم کیاجا سکتا ہے۔یہ تجویز ابھی زیر بحث ہے اور بھارتی حکومت نے حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔بھارتی حکومت امریکاکے باہمی محصولات کے نفاذ سے پہلے ایک معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے جس کے لئے امریکا کے تجارتی نمائندہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا کے معاون برینڈن لنچ کی قیادت میں ایک امریکی وفد تجارتی مذاکرات کے لئے بھارت میں ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے فروری میں امریکی دورے کے دوران، دونوں ممالک نے اپنے ٹیرف تنازعات کو حل کرنے کے لئے جلد تجارتی معاہدے کی بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا۔اگر بھارتی برآمدات پر محصولات بڑھتے ہیں تو امریکی کمپنیاں دوسرے سپلائرز جیسے انڈونیشیا، اسرائیل اور ویتنام کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں، جس سے بھارتی کاروباری ادارے مزید متاثر ہوں گے۔








