اجیت دوال کا مسلم مخالف بیان منافرانہ ذہنیت کا عکاس ہے،محبوبہ مفتی
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش خطرناک ثابت ہوسکتی ہے

سرینگر:غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال کے “تاریخ کا بدلہ لینے” کے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے اور کہا کہ ایسے بیانات مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور مذہبی تعصب کو بڑھانے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، محبوبہ مفتی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر کہا کہ یہ انتہائی قابل افسوس ہے کہ ایک حساس عہدے پر فائز شخص، جس کا فرض بھارت کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے، ہم آہنگی کو فروغ دینے کے بجائے نفرت انگیز مذہبی نظریات کی عکاسی کر رہا ہے۔اجیت دوال نے گزشتہ روز نئی دہلی میں "وکست بھارت ینگ لیڈرز ڈائیلاگ” کے افتتاحی موقع پر کہا تھا کہ بھارت کو فوجی، اقتصادی اور سماجی طور پر مضبوط ہونا چاہیے تاکہ”تاریخی تلخ واقعات کا بدلہ لیا جا سکے“ ۔ سیاسی مبصرین دول کے اس بیان کو بھارت میں مسلم عہد حکمرانی، بھارتی مسلمانوں کے خلاف خطرناک منصوبوں اور دو قومی نظریے کی بنیاد پربننے والے پاکستان خالف سازشوں کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں ۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ 21ویں صدی میں صدیوں پرانے واقعات کا بدلہ لینے کی بات کرنا محض ایک کتے کی سیٹی کے سوا کچھ نہیں تھا جس کا مقصد کم تعلیم یافتہ اور غریب نوجوانوں کو پہلے سے کمزور مسلمان اقلیت کے خلاف بھڑکانا ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات موجودہ بھارتی انتظامیہ کے ہندوتوا ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو معمول بنانے پر تلی ہوئی ہے۔






