مساجد اور دینی مدارس کی جبری پروفائلنگ اور کشمیریوں صحافیوں پر کڑی پابندی کی مذمت
سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مدارس کی جبری پروفائلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مدارس کی جبری پروفائلنگ کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر فاروق نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ ان انتقامی کارروائیوں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہیں پولیس اسٹیشنوں میں طلب کرکے حلف ناموں اور بانڈز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جوکہ آزادی صحافت پر براہ راست حملہ ہے۔انہوں نے کہاکہ دینی مراکز کو انتقامی کارروائیوں کا ہدف نہیں بنانا چاہیے اور نہ ہی حقائق پر مبنی واقعات کی رپورٹنگ کوئی جرم ہے۔ میرواعظ نے مزید کہاکہ آزاد اورنڈر صحافی اور میڈیا جمہوری معاشرے کی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں ۔مقامی میڈیا اور صحافیوں کے حقو ق کے کارکنوں نے بھی بھارتی قابض انتظامیہ کی صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور سیلف سنسرشپ کا ماحول پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔






