مضامین

عالمی یومِ خواتین — کشمیری خواتین اور بھارتی جبر کا بوجھ

کے ایس کشمیری

 

عالمی یومِ خواتین کے موقع پر دنیا بھر میں خواتین کے حقوق اور ان کی جدوجہد کو یاد کیا جاتا ہے، مگر مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین آج بھی مسلسل مشکلات اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ کئی حلقوں کے مطابق وہاں بھارت کی ہندوتوا سرکار کی پالیسیوں اور سخت سکیورٹی ماحول نے کشمیری معاشرے، خاص طور پر خواتین کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔

کشمیری خواتین کو نہ صرف سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے بلکہ انہیں اپنے پیاروں کی گمشدگی، گرفتاریوں اور طویل قید جیسی تکلیف دہ صورتحال سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر، بیٹے یا بھائی مختلف جیلوں میں قید ہیں یا برسوں سے لاپتہ بتائے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کچھ انسانی حقوق کی رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ تنازعات کے دوران خواتین کو ہراسانی، جنسی تشدد اور دیگر زیادتیوں جیسے سنگین حادثات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ایسے واقعات کشمیری خواتین کے لیے ایک گہرا زخم بن چکے ہیں اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں پر دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

اس کے باوجود کشمیری خواتین صبر، حوصلے اور استقامت کی مثال قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے خاندانوں کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انصاف اور بنیادی حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں، خصوصاً United Nations سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کشمیری خواتین کے مسائل اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی یومِ خواتین اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا میں خواتین کی حقیقی آزادی تبھی ممکن ہے جب ہر خطے میں امن، انصاف اور انسانی حقوق کا احترام یقینی بنایا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button