ُبھارت کاپانی کو ہتھیارکے طورپراستعمال کرنے کا نتیجہ، چین دریائے برہم پتراپر ڈیم تعمیرکر رہا ہے

نئی دہلی:بھارت کو پانی کوایک ہتھیار کے طورپر استعمال کرنے کی حکمت عملی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ چین اروناچل پردیش کے قریب دریائے برہم پترا پر ایک بڑا پن بجلی منصوبہ تعمیر کررہا ہے جسے بھارت اسی عدم تحفظ کا شکارہو گاجسے وہ اپنے پڑوسی ممالک کو دوچارکررہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق168ارب ڈالرلاگت کے میگا ڈیم سے جو دنیا کا سب سے بڑا ڈیم بننے جارہا ہے، بھارت میںدریائوں کا بہا ئو یکسر تبدیل ہو سکتا ہے جس سے بھارت کے شمال مشرقی علاقوںمیں لاکھوں لوگ متاثر ہوں گے۔سٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم اقدام ہے۔ بھارت جو طویل عرصے سے سندھ طاس معاہدے کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہاہے، اب اسے اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے مستقبل کے بارے میں خبردارکیاہے کہ چین دبائو ڈالنے کے لیے سیلاب یا خشک سالی کے خطرے کو استعمال کر سکتا ہے۔ چین کے ہاتھ میں بالائی دریا کاکنٹرول آنے کے بعد بھارت سے سندھ طاس معاہدے کے التواسمیت اپنے طرزعمل پر نظر ثانی کرنے مطالبہ زورپکڑرہا ہے کیونکہ دریائے برہم پترا علاقائی آبی سیاست کے لئے ایک اہم علامت بن جائے گا۔








