مضامین

پاکستان امن کا نشان

امریکہ ایران جنگ بندی میں تاریخ ساز کردار، دنیا بھر میں سراہنا

ارشد میر

دنیا ایک بار پھر ایک ایسے نازک موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں ایک غلط قدم نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ جو کئی ہفتوں سے جاری تھی اور اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامہی کی طرف سے بڑے اور اعلانیہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد اوٹ پٹانگ، اشتعال انگیز، غیر روائتی و غیر سفارتی اور متضاد بیانات، دعوے اور دھمکیاں سامنے آرہی تھیں۔ خود سے جنگ مسلط کرکے، اسکے پہلے ہی مرحلہ پر کامیابیوں کے دعوے کرنے اور پھر ایران کو جنگ بندی مجبور کرنے کے لئے دھمکیوں سے کام لینے کی روش نے امریکہ کو دنیا بھر میں مذاق بنادیا۔ دنیا بھر کے مبصرین اسے امریکہ کی ناکامی اور بوکھلا ہٹ سے تعبیر کررہے تھے۔

گذشتہ دنوں صورتحال اس وقت انتہائی خطرناک رخ اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت اور اشتعال انگیز بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اسکی پوری تہذیب کو ہمیشہ کے لئے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ اس بیان کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی اور جنگ کے نئے اور انتہائی تباہ کن مرحلے کے آغاز کے خدشات نمایاں ہو گئے۔ اسی تناظر میں امریکی حملوں کی تیاری اور خطے میں فوجی نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب 28 فروری سے جاری یہ جنگ ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن موڑ پہ آئی تھی ۔ عالمی طاقتیں اضطراب کا شکار تھیں امریکہ کی طرف سے غیر معمولی تباہی پھیرنے اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے بعد آبنائے مدیب کو بند کئے جانے کی دھمکی نے عالمی معتشا کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ایسے میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جو کسی بھی ریاست کی صلاحیت، بصیرت اور عالمی کردار کو نئی پہچان دیتا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈاراور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بطور خاص مربوط حکمت عملی کے تحت نہ صرف امریکا بلکہ ایران سے بھی براہ راست اور بالواسطہ رابطے قائم کیے۔ جنگ کو نئی انتہاؤں تک لے جانے کے بجائے فوری طور پر جنگ بندی کی تجویز پیش کی اور دونوں فریقین کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایک ایسا متوازن اور غیر جانبدار کردار ادا کیا جس نے نہ صرف بہت بڑی ممکنہ تباہی کے خطرے کو ٹالا بلکہ خطے اور دنیا کو ایک بڑے بحران سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا نے پاکستان کی تجویز کو سنجیدگی سے لیااور ایرانی شرائط یا تجاویز کے مدنظر رکھ کرصدر ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کیا۔

اسی طرح ایران نے بھی پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے اپنے سپریم لیڈر کی منظوری کے ساتھ عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی اور دفاعی کارروائیوں کو محدود کرنے کا عندیہ دیا۔ ایرانی میڈیا نے کہاکہ ایران مخالف بیان بازی سے ٹرمپ کی ذلت آمیز پسپائی ہوئی جبکہ ایرانی وزیر خا رجہ عباس عراقچی نے کہا ایران پرحملے رک گئے تو ایران بھی حملے روک دے گا، ایرانی فوج سےرابطےکےساتھ آبنائےہرمزسےدوہفتےتک محفوظ ٹرانزٹ ممکن ہے۔

پاکستان کی جانب سے نہ صرف جنگ بندی میں کردار ادا کیا گیا بلکہ آئندہ کے لیے مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی گئی۔ اسلام آباد میں فریقین کے درمیان مذاکرات کی دعوت اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خود کو ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر منوا رہا ہے جو نہ صرف تنازعات کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ پائیدار امن کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھاتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی سفارتکاری محض ردعمل نہیں بلکہ ایک فعال اور پیشگی حکمت عملی کے طور پر سامنے آئی ہے۔

اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو عالمی سطح پر اس کے اثرات ہیں۔ جیسے ہی جنگ بندی کے اعلانات سامنے آئے، عالمی منڈیوں میں واضح بہتری دیکھی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جو اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اور عالمی معیشت کشیدگی میں کمی کو مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیاجس نے اس امر کی تصدیق کی کہ جغرافیائی سیاسی استحکام عالمی معیشت کے لیے کس قدر اہم ہے۔عالمی میڈیا اور مختلف ممالک کے پالیسی سازوں نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ امریکی و ایرانی حکام کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کی تعریف اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد نے ایک غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک “سافٹ پاور” کے طور پر ابھرنے کی علامت ہےجہاں وہ عسکری طاقت کے بجائے مکالمے اور ثالثی کے ذریعے اپنا اثر قائم کر رہا ہے۔خطے کے اندر بھی اس پیش رفت کے اثرات نمایاں ہیں۔

بھارت میں جہاں ماضی میں پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے دعوے کیے جاتے رہے وہیں اس سفارتی کامیابی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تعصب ذدہ بھارتی میڈیا نے جہاں روایتی منفی کردرا ادا کرکے اپنی مایوسی اور بھارت کے سفارتی سطح پر تنہاء اور غیر متعلق ہونے کا ثبوت دیا وہیں بعض بھارتی تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں نے کھل کر پاکستان کے سراہنا کی۔ بھارتی پروفیسر اشوک سوین نے وائٹ ہاؤس کی پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتکاری کی تعریف کی اور لکھا یہ ایران کے لیے ایک فتح اور پاکستان کے لیے اعزاز کا نشان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی شاید پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے چاہتے تھے مگر اس کے برعکس بھارت خود تنہا رہا گیا۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ شہباز شریف نے شاندار کام کیا۔مصنف اتُل کھتری نے دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ثالثی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی لکھا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں پاکستان کے لیے یہ ٹوئٹ کروں گا’۔مصنف اور دانشور جیانت بھنڈاری نے جنگ بندی پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا پاکستان نے دکھا دیا ہے کہ وہ اچھے رہنما تلاش کر سکتا ہے۔دفاعی تجزیہ کار ابھیجیت آئر مترا نے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ بندی کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ثالثی کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی خطرہ مول لینے کی بھی صلاحیت ہونی چاہیے، پاکستان نے دونوں کو بخوبی انجام دیا۔صحافی ادیتا مینن نے لکھا شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر 14 روزہ جنگ بندی کے لیے داد کے مستحق ہیں، دونوں طرف سے پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا ہے۔فلمی نقاد کے آر کے نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ممکنہ ایٹمی جنگ کو روک کر نا صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو بچایا بلکہ دنیا کے اختتام تک آپ کو ایک ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بھارت کے منصف مزاج مبصرین، تجزیہ کاروں اور اہل الرائے کی جانب سے پاکستان کے کردار کی تعریف اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عالمی سطح پر اثر و رسوخ صرف دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ امر خاص طور پر اس بیانیے کے لیے ایک چیلنج ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار ظاہر کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی یہ کامیابی محض ایک وقتی سفارتی فتح نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اسٹریٹیجک کامیابی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر اسلام آباد اپنی اس پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے مزید بین الاقوامی تنازعات میں مثبت کردار ادا کرتا ہے تو وہ عالمی سفارتکاری کے نقشے پر ایک مستقل مقام حاصل کر سکتا ہے۔

تاہم اس کامیابی کے ساتھ کئی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ آیا فریقین اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے کسی پائیدار حل تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ عارضی جنگ بندی ایک ابتدائی قدم ضرور ہےمگر اصل کامیابی ایک جامع اور دیرپا امن معاہدہ ہوگا۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک امتحان ہوگا کہ وہ کس حد تک اس عمل کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتا ہے۔

خطے کی مجموعی صورتحال، بڑی طاقتوں کے مفادات اور متضاد جغرافیائی و سیاسی ایجنڈے اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کو نہایت محتاط، متوازن اور اصولی سفارتکاری جاری رکھنی ہوگی تاکہ وہ اپنی غیر جانبداری اور ساکھ کو برقرار رکھ سکے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس پیش رفت نے پاکستان کے اندرونی اعتماد کو بھی تقویت دی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب معاشی اور سیاسی چیلنجز موجود ہیں، عالمی سطح پر ایک مثبت کردار ادا کرنا قومی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے اور عوام میں ایک نئی امید پیدا کرتا ہے۔ یہ اعتماد مستقبل میں مزید بہتر پالیسی سازی اور بین الاقوامی روابط کو فروغ دے سکتا ہے۔

پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی نے نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کو روکا بلکہ عالمی سطح پر اس کے کردار کو ایک نئی جہت دی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اگر اپنے سفارتی وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لائے تو وہ عالمی امن کے لیے ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔

اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بھارتی دعوے جو کبھی بلند آواز میں کیے جاتے تھےکہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا جائے گاآج حقیقت کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔ دنیا کے افق پر آج پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو نہ صرف تنازعات کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مختلف فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر کے عالمی امن میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button