
اسٹریلیا کے معروف شہر سڈنی کے بونڈائی بیچ پر موجود لوگوں پر فائرنگ کے ایک واقع میں ابھی تک 16ہلاکتوں کی تصدیق جبکہ 40سے زائد زخمی ہیں۔یہ واقع 14دسمبر کے روز پیش آیا،جب یہودی بڑی تعداد میں بیچ پر موجود تھے۔ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی تھی لیکن خوش کن امر یہ ہے کہ حملے کے دوران ایک مسلمان شخص احمد الا احمد نے بہادری کی مثال قائم کی۔سفید قمیض پہنے یہ شخص کار پارک میں دوڑ کر مسلح حملہ آور تک پہنچا، اسے دبوچ کرا س کا ہتھیار چھینا اور یوں نہ جانے مزید کتنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کا باعث بن گیا ۔احمد کے اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور لوگوں نے اس کی بہادری کی بے حد تعریف کی، اس چھینا جھپٹی میں وہ خود بھی زخمی ہوگیا۔اس کے بائیں بازو اور ٹانگ پر بھی گولیاں لگیں۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ احمد کی جان تو خطرے سے باہر ہے لیکن ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور خدشہ ہے کہ وہ اپنا بایاں بازو کھوسکتے ہیں۔دوسری جانب آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ احمد الاحمد کے علاج کیلئے ہر ممکن اور جدید سہولیات فراہم کریں گے۔ بیرون ملک بھی جانا پڑا تو دریغ نہیں کریں گے۔ احمد الاحمد کے علاج کیلئے آن لائن فنڈ ریزنگ میں بھی لاکھوں ڈالرز جمع ہوچکے ہیں ۔اسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البائنز نے ہسپتال جاکر احمد الااحمد کیساتھ ملاقات کرکے ان کی بہادری کو سراہا۔47 سالہ احمد الاحمد شام میں پیدا ہوئے اور 2006 میں بہتر مستقبل کی تلاش میں آسٹریلیا آئے تھے اور طویل جدوجہد کے بعد انہیں 2022 میں آسٹریلوی شہریت ملی۔وہ دو کمسن بیٹیوں کے والد ہیں، جن کیلئے وہ ایک شفیق باپ اور آج پورے اسٹریلیا کیلئے ایک ہیرو بن چکے ہیں۔اس واقعے نے دنیا بھر میں انسانی ہمدردی، بہادری اور جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ احمد الااحمد کا یہ عمل نہ صرف ان کی ذاتی بہادری کی علامت ہے بلکہ یہ اس بات کا غماز بھی ہے کہ رنگ ،نسل اور ذات پات انسانیت سے مبرا نہیں اور انسانیت ہی ہر پہلو پر ترجیحی رکھتی ہے۔
اگرچہ شامی نژاد احمد کی بہادری کے قصے زبان زد عام ہیں،البتہ دوسرا پہلو بھی ہے اور وہ ہے جھوٹ،مکرو فریب اور اپنے لیے رسوائی کمانا،جو بھارت،اسرائیل اور افغانستان کے حصے میں آئی ہے۔بونڈائی واقع کے فورا بعد جہاں بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاونٹس نے پاکستان کو ملوث کرنے کیلئے جھوٹ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کی تمام حدیں پار کیں۔مگر اب معاملہ خود بھارت کے گلے پڑگیا ہے،کیونکہ حملہ آور ساجد اکرم بھارتی شہری نکلا ، جس کے بعد بھارتی میڈیا کو سانپ سونگھ گیا۔بھارتی میڈیا کی سرخیوں میں پاکستانی پس منظر، پاکستانی نژاد اور پاکستانی دہشت گرد جیسے القابات کا بے دریغ استعمال کیا گیا، لیکن حقائق بدلتے ہی بھارتی چینلز سے تمام سرخیاں غائب اورمیڈیا کوریج میں نمایاں کمی آگئی، بھارتی پاسپورٹ اور حیدرآباد کا انکشاف ، مگر بھارتی میڈیا میں خاموشی، یروشلم پوسٹ اور سی بی ایس کے ابتدائی حوالے بھارتی میڈیا کہانیوں کی بنیاد بنی ، بونڈائی واقعہ میڈیا فریم سازی اور پروپیگنڈے کی واضح مثال ہے۔ بھارتی خبر رساں ادارہ پرنٹ حقائق منظر عام پر لے آیا ہے۔پرنٹ کے مطابق بونڈائی بیچ پر حملہ آور ساجد اکرم 1998میں بھارت سے آسٹریلیا منتقل ہوا۔ پرنٹ کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ساجد اکرم کا تعلق ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآبا سے ہے اوراس کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔بونڈائی بیچ واقعے میں مارا جانے والا ساجد اکرم بھارتی نژاد جبکہ بیٹا نوید اکرم پیدائشی آسٹریلوی شہری نکلا لیکن بھارتی اور اسرائیلی میڈیا نے نام آتے ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کی ا ور حقائق کے برعکس ایک مذموم مہم چلائی۔پرنٹ کے مطابق آسٹریلوی حکام نے بھارت سے تفصیلات مانگیں جس میں پاکستان سے کسی تعلق کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔
فلپائن کے امیگریشن حکام نے دعوی کیاہے کہ مبینہ حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم نومبر میں فلپائن میں ایک ماہ تک مقیم رہے تھے۔امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ساجد اکرم فلپائن میں بھارتی شہری کے طور پر داخل ہوا جبکہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہے۔عالمی نشریاتی ادارہ بی بی سی کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے فلپائن میں ملٹری ٹریننگ بھی حاصل کی۔دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر تک وہیں مقیم رہے ۔یوں بھارتی میڈیا کی جانب سے جعلی سوشل میڈیا پروفائلز کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش بے نقاب ہوگئی۔ بونڈائی بیچ واقعہ پھر ایکبار بھارتی میڈیا کے فالس فلیگ بیانیے کو بے نقاب کر گیا۔پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے والی بھارتی مہم خود بھارتی میڈیا کی رپورٹ سے زمین بوس ہوگئی۔ حقائق سامنے آتے ہی الزام تراشی بے بنیاد ثابت ہوئی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی منظم کوشش بھی دم توڑ گئی۔ بونڈائی واقعے کے فورا بعد بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ایسا بیانیہ تیزی سے پھیلایا گیا ، جس کا مرکزی محور حملہ آوروں کو پاکستانی نژاد قرار دیکر پاکستان کو بالواسطہ طور پر اس وقعے سے جوڑنا تھا۔ حملے کے ابتدائی لمحات میں، جب تحقیقات ابھی شروع ہی ہوئی تھی اور کسی بھی اسٹریلوی ادارے کی جانب سے حتمی معلومات سامنے نہیں آئی تھیں، اسی وقت بھارتی میڈیا کے متعدد بڑے اداروں نے اپنی خبروں اور سرخیوں میں پاکستان کا نام شامل کرنا شروع کیا تھا۔ ابتدائی رپورٹس میں یہ تاثر دیا گیا کہ بونڈائی بیچ حملہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے باپ بیٹے نے کیا ہے۔حتی کہ ایک پاکستانی نوجوان شیخ نوید کی تصویر کو استعمال کر کے اسے حملہ آور قرار دے دیا گیا۔شیخ نوید نے فورا سامنے آ کر اس جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید کی اور سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ان کا فائرنگ کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تصویر کو غلط طریقے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔شیخ نوید نے کہا کہ اس بے بنیاد پروپیگنڈے نے ان کی سلامتی اور ساکھ کو خطرے سے دوچار کیا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کے خلاف نفرت اور غم و غصے کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اپیل بھی کرنا پڑی کہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کو روکا جائے اور حقیقت سامنے لائی جائے۔ سڈنی واقعے کو بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے پاکستان سے جوڑنا دراصل انتہا پسندی اور اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی ایک منظم کوشش ہے۔
اس واقع نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ سچائی پر مبنی رپورٹنگ، انسانی ہمدردی اور حقیقی بہادری کو اجاگر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جب سچائی سامنے آتی ہے تو جھوٹ اور پروپیگنڈا خود بخود بے نقاب ہوکر دھڑام سے زمین پر منہ کے بل گرتا ہے۔بونڈائی بیچ واقعے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں جھوٹ، نفرت اور بدگمانی پھیلانے والے بیانیہ سے نہ صرف بچنا چاہیے بلکہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جومعاشرے میں امن و محبت کی فضا قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔بھارت،افغانستان اور اسرائیل کی پاکستان دشمنی سے کون واقف نہیں ہے بلکہ یہ تینوں ممالک پاکستان سے متعلق شدید مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ان میں سے دو بھارت اور افغانستان کا شافی علاج رواں برس مئی اور اکتوبر میں کیا جاچکا ہے اور یہ مزید علاج کے متمنی ہیں۔جبکہ صہیونی اسرائیل کو عالمی فورموں پر پاکستان کے ہاتھوں بار بار ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،لہذا ان تینوں ممالک کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا قابل فہم ہے،مگر ایک دنیا حقیقت کی بھی ہے،جس میں جھوٹ اور پروپیگنڈے کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ جھوٹے ممالک کو شرمساری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،جس کی مثال بھارت،افغانستان اور اسرائیل کی ہے۔جہاں بھارت کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کا خون بہانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا،وہیں صہیونی اسرائیل جس کا وجود ہی ناجائز اور غیر قانونی ہے،آج تک لاکھوں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے علاوہ ان کی زمینوں پر قبضہ اور انہیں بے دخل کرتا ہے۔ایسے بے شرم ممالک اس پاکستان کے خلاف مذموم پروپیگنڈا کرتے ہیں،جس نے چالیس لاکھ افغانوں کو چار دہائیوں سے زائد عرصے تک اپنی سرزمین پر جگہ دی،انہیں پالا پوسا اور ہر ممکن مدد کی اور آج افغان طالبان بھارت اور اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں۔پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے۔ہزاروں پاکستانی جن میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آفیسران اوراہلکار بھی شامل ہیں ،شہادت سے سرفراز ہوچکے ہیں۔آج بھی پاکستان کو ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا سامنا ہے،جس میں بھارت اور افغانستان پیش پیش ہیں۔صدرپاکستان اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے بونڈائی بیچ واقع کی نہ صرف مذمت کی بلکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم دوہرایا ہے۔اس کیلئے بلاتاخیر بھارت،افغانستان اور اسرائیل کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے۔یہی وہ راستہ ہے جس سے اس دنیا کو ایک محفوظ، محبت بھرا اور پرامن جگہ بنا یا جاسکتا ہے۔







