
کانگریس نے برصغیر کی تقسیم سے بہت پہلے جموں وکشمیر کے سرسبز و شاداب اور آبی وسائل سے مالا مال خطے پر اپنی مکارانہ نظریں جما رکھی تھیں۔ شاطر کانگریسی رہنماﺅں کو جب یہ ادراک ہو ا کہ پاکستان کے قیام کو روکنا اب ان کے بس میں نہیں تو انہوں نے مملکت خداداد کو کشمیر کے حسین خطے سے محروم کرنے کیلئے سازشوں کے جال بننا شروع کردیے۔ کانگریسی رہنماپاکستان کو ایک بے حد کمزور ملک کے طور پر وجود میں آتے دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے انگریز کے ساتھ ساز باز کر کے پنجاب کے کئی مسلم اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کروا لیے جو تقسیم برصغیر کے اصول کے تحت یقینی طورپر پاکستان کا حصہ بنناتھے۔ ان علاقوں کو ہڑپ کرنے کا مقصد جموں وکشمیر تک پہنچنے کیلئے زمینی راستہ ہموار کرنا تھا۔ برطانوی نوآبادیاتی تسلط سے بھارت کو آزاد ی دلانے والے پنڈٹ جواہر لال نہرواور سردارپٹیل جیسے شاطر کانگریسی رہنما بعد میں برطانیہ سے بھی بڑے نوآبادی ذہنیت کے نکلے ۔انہوں نے نہ صرف جموں وکشمیر کی واضح مسلم اکثریتی ریاست پر قبضہ جما لیا بلکہ جونا گڑھ اورحیدر آباد کی ریاستوں پر بھی فوج کشی کی۔ کانگریسی رہنماﺅںنے ایک طویل جدوجہد کے بعد برطانوی سامراج سے چھٹکارہ پایا تھا لہذانہیں کسی قوم کی خواہشات پامال کرنے اور اسکی آزادی چھننے کا خیال تک نہیں آنا چاہیے تھے لیکن کشمیر پر قبضہ جما کر انہوں نے اپنی مکروہ ذہنیت ، بے اصولی اور شاطرانہ پن کا بھر پور ثبوت دیا۔انہوں نے کشمیر پر فوج کشی کر کے نہ صرف کشمیریوں کو غلام بنا لیا بلکہ پاکستان کے ساتھ بھی ایک مستقل کشیدگی کا راستہ ہموار کیا اور یوںپورے خطے کاامن داﺅ پر لگا دیا۔ پنڈت نہرو کشمیر کو ہتھیانے کی سازشوں میں تو پیش پیش تھا ہی ، موہن داس کرم چند گاندھی اور سرپٹیل بھی اس حوالے سے انتہائی سر گرم رہے ۔ یہ سب اُس وقت کے کشمیر کے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کو اپنے دام میں لانے کی بھر پور تک ودو میں لگے رہے۔ گاندھی نے یکم تا چار اگست 1947کو کشمیر کا دورہ کیا۔ انکا یہ دورہ دراصل مہاراجہ پر بھارت کے ساتھ الحاق کیلئے دباﺅ بڑھانے کا ایک حربہ تھا۔ سردار پٹیل نے 3 جولائی 1947کو مہاراجہ ہری سنگھ اور انکے وزیر اعظم رام چند کے نام ایک خط میں بڑے ہی شاطرانہ انداز سے لکھا” وہ ایک مخلص دوست اور جموں وکشمیر کے ایک اچھے خیر خواہ کے طور پر آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ کشمیر کا بھارت میںشامل ہونا سود مند رہے گا“۔ غرض کانگریس کے یہ سارے رہنما مہاراجہ کو بھارت کے ساتھ الحاق کیلئے راضی کرنے کی بھر پور کوششوں میں لگے رہے ۔ کہا جاتاہے کہ مہاراجہ کا وزیر اعظم رام چند کاک بھارت کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا حامی تھا لہذا پنڈت نہرو نے 17 جون 1947 کو گورنر جنرل ماﺅنٹ بیٹن کو ایک خط لکھا جس میں ان سے کاک کو انکے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ مہاتما گاندھی نے بھی یکم اگست 1947 کو اپنے دورہ کشمیر کے دوران مہاراجہ کے ساتھ ملاقات میں رام چند کو ہٹانے کی بات کی تھی۔ چناچہ کاک کو گیارہ اگست 1947 کو برطرف کر دیا گیا ۔ ان کی جگہ مہر چند مہاجن کو جموںوکشمیر کا وزیر اعظم بنایا گیا جس نے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے کانگریسی رہنماﺅں کے مذموم منصوبے کوعملی جامہ پہنایا۔گاندھی، نہرو اور پٹل بالاخر اپنی مذموم سازش میں کامیاب ہو گئے ۔ مہاراجہ نے 26اکتوبر کو بھارت کے ساتھ نام نہاد الحاق رچا لیا، 27اکتوبر کو بھارتی فوج سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتری اور یوں کشمیریوں کے ابتلا کا ایک نیا دور شروع ہوا جو اپنے اندر بھارتی مکرو فریب اور ظلم و ستم کا ایک درد ناک باب سمیٹے ہوئے ہے۔
کانگریس ہندو ﺅں کے بارے میں مشہور زمانہ مقولے ” بغل میں چھری، منہ میں رام رام“کا عملی نمونہ ثابت ہوئی۔ اس نے مکاری، دھوکہ دہی ، چالبازی اور فریب کاری کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے جموں وکشمیرپر قبضہ جما لیا ۔ پنڈت نہرو نے اپنے خاص دوست اور آلہ کار شیخ عبداللہ کی سربراہی میں اکتوبر 1947میں کشمیر میں ایک ہنگامی حکومت قائم کرائی اوران کی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے کیلئے 1951میں کشمیر میں فرا ڈالیکشن کرائے ۔ نہرو ایک طرف یہ وعدہ کرتا پھر رہا تھا کہ کشمیرمیں حالات بہتر ہوتے ہی رائے شماری کرائی جائے گی لیکن دوسری طرف ان انتخابات کو دنیا کے سامنے رائے شماری کے متبادل کے طور پر سامنے پیش کرتا رہا جس سے اسکی بے اصولی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اب میں بھارت کی اس نام نہاد سیاسی پارٹی کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو کانگریس کی طرح توسیع پسندانہ عزائم کیساتھ ساتھ پورے خطے میں ہندو تہذیب وتمدن کا غلبہ چاہتی ہے ۔یہ جماعت ہندو ﺅں کے سوا کسی دوسری قوم خاص طورپر مسلمانوں کا وجود برداشت کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔”بھارتیہ جنتا پارٹی “ نام کی یہ تنظیم دراصل بدنام زمانہ ہندو دہشت گرد تنظیم ” راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ“(آر ایس ایس )کا سیاسی ونگ ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وہ خطرناک عفریت ہے جو اس پورے خطے کو” ہندو توا“ کے رنگ میں رنگنا چاہتی ہے۔مودی کی ہند و توا بھارتی حکومت نے5اگست 2019کو کشمیریوں پر ایک اور سنگین وار کیا ۔ اس نے جموںو کشمیرکی خصوصی حیثیت چھین لی جسکا واحد مقصد کشمیر میں بھارتی ہندﺅں کو بسا کر یہاں مسلمان وںکی اکثریت کو اقلیت میں بدل کر ہندو توا نظر یے کو آگے بڑھانا ہے۔ بی جے پی حکومت کو جموں وکشمیر کی مسلم شناخت اسے کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے ۔ یہاں جگہ جگہ موجودمساجد، درگاہوں، زیارتوں اور خانقاہوںنے اسکا سکون غارت کر رکھا ہے لہذا وہ انہیں جلد از جلد مندروں میں تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتی ہے ۔بی جے پی، آر ایس ایس نے جس طرح سے صدیوں پرانی بابری مسجد رام کی جائے پیدائش کا ڈھونگ رچا کر شہید کر ڈالی بالکل اسی طرز پر وہ کشمیرمیں مساجد ، درگاہوں اور خانقاہوں کو منہدم کر کے ان کی جگہ مندر بنانے کا مذموم منصوبہ رکھتی ہے۔ اس مقصد کیلئے سرینگراور دیگر مقامات پر کئی مساجسد اور خانقاہوں کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے۔ تاہم بی جے پی رہنماﺅں کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جب دین کے حوالے سے کوئی معاملہ ہو تو مسلمان سردوں پر کفن باندھ کر میدان میں نکلتے ہیں ۔ دسمبر 1963میں جب درگاہ حضرت بل سے ہمارے پیارے نبی ﷺ کے موئے مقدس کی چوری کا پر اسرار واقعہ پیش آیا توواقعے کی خبر پھیلتے ہی شہرو دیہات میں لوگ گھروں سے نکل آئے تھے ۔ درگاہ کے سامنے پچاس ہزارکے قریب لوگوں نے سیاہ جھنڈے اٹھائے احتجاج کیا تھا۔ کشمیریوں نے اپنا یہ احتجا ج چار جنوری 1964کو موئے مقدس کی بازیابی تک دن رات جاری رکھا۔ اس بھر پور احتجاج نے پنڈت نہرو کو ہلا کے رکھ دیا تھا۔ ۔رواں برس ستمبرمیں بھارتی انتظامیہ نے درگاہ حضرت بل میں موری خاندان کے آخری بڑے حکمران اشوکا کے نشان والا ایک سائن بورڈ لگایا جس پر جمعہ کی نماز کے لیے درگاہ آنے والے کشمیری مرد و خواتین انتہائی مشتعل ہوئے اور آنا ً فاناً مذکورہ بورڈ تہس نہس کر دیا۔بی جے پی کو ان واقعات سے سبق حاصل کرکے اپنے مذموم منصوبوں سے باز رہنا چاہیے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے اپنی فورسز کو کشمیری مزاحمت کاروں کو چن چن کو شہید کر نے اور انہیں جیلوں اور عقوبت خانوں میں پہنچانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ اس نے تمام مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت زندگی کے ہرپیشے سے تعلق رکھنے والے ان تمام لوگوں کو سلاں کے پیچھے ڈال رکھا ہے جو آزادی کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں۔ بی جے پی ان مذموم ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو خوفزدہ کرنا چاہتی ہیں ، انہیں ڈرانا دھمکانا چاہتی ہے ۔ لیکن ہمیں قرآن پاک کی صورہ آل عمران کی اس آیت کو نہیں بولنا چاہیے کہ :” اور وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے مستحکم تدبیر والا اللہ ہے۔“ کشمیری بھارتی سفاکیوں ، چیرہ دستیوں اور ریشہ دوانیوں کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں ۔ انہوں نے اپنی استقامت ، حوصلے اور صبر کے ذریعے ایک بڑی فوجی طاقت کو زچ کر رکھا ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب ظالم بھارت رسوا ہو گا اور فتح کشمیریوں کے قدم چومے گی۔ (ان شا اللہ)







