تحریکِ آزادی کشمیر کی آئرن لیڈی: آسیہ اندرابی — عزم، استقامت، دین و شعور اور مزاحمت کی مربوط داستان*
مشتاق احمد بٹ
تحریکِ آزادیٔ کشمیر ایک ایسی ہمہ جہت جدوجہد ہے جس میں سیاسی بصیرت، نظریاتی وابستگی، سماجی بیداری اور روحانی استقامت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس تحریک میں بعض شخصیات محض کردار ادا نہیں کرتیں بلکہ خود ایک استعارہ بن جاتی ہیں۔ آسیہ اندرابی انہی نمایاں شخصیات میں شامل ہیں، جنہیں ان کی غیر معمولی ثابت قدمی، فکری پختگی اور جراتِ اظہار کے باعث "آئرن لیڈی” کہا جاتا ہے۔
آسیہ اندرابی کی شخصیت کو محض ایک سیاسی کارکن کے طور پر سمجھنا اس کے حقیقی دائرۂ اثر کو محدود کر دینا ہوگا۔ وہ بیک وقت ایک نظریاتی رہنما، ایک سماجی مصلحہ، ایک دینی شعور بیدار کرنے والی عالمہ اور ایک منظم تحریک کی بانی کے طور پر سامنے آتی ہیں۔ ان کی جدوجہد ایک مربوط اور ہمہ گیر فکر کی عکاسی کرتی ہے جس میں دین، شناخت اور آزادی کا تصور ایک دوسرے میں مدغم نظر آتا ہے۔
انہوں نے وادیٔ کشمیر کے حالات کا گہرا ادراک کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کشمیری عوام کا مسئلہ محض سیاسی تنازع نہیں بلکہ ایک تہذیبی، دینی اور انسانی حق کا معاملہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے بے خوف ہو کر کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف آواز بلند کی اور اسے ایک اصولی، مستقل اور نظریاتی جدوجہد کی شکل دی۔ ان کا واضح مؤقف رہا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر ایک قدرتی، تاریخی اور نظریاتی طور پر پاکستان کا حصہ ہے، اور اسی بنیاد پر وہ الحاقِ پاکستان کی علمبردار رہی ہیں۔ یہ مؤقف ان کی سیاسی فکر کا مرکزی ستون رہا ہے، جس نے ان کی جدوجہد کو ایک واضح سمت عطا کی۔
آسیہ اندرابی کی جدوجہد کا ایک نہایت اہم پہلو ان کی حیثیت بطور عالمہ بھی ہے۔ انہوں نے کشمیری خواتین میں دینی تعلیم، اسلامی شعور اور اخلاقی بیداری پیدا کرنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں خواتین میں دینِ اسلام کے بنیادی تصورات، اسلامی شناخت اور اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور مضبوط ہوا۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ ایک مضبوط اور بامقصد معاشرہ صرف سیاسی آزادی سے نہیں بلکہ فکری اور روحانی تربیت سے تشکیل پاتا ہے۔
اسی وژن کے تحت انہوں نے ایک منظم پلیٹ فارم کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دختران ملت کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم کشمیری خواتین میں دینی شعور اجاگر کرنے، اسلامی اقدار کے فروغ اور تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے میں ایک مؤثر آواز کے طور پر سامنے آئی۔ دخترانِ ملت نے خواتین کو ایک منظم قوت میں تبدیل کیا اور انہیں نہ صرف نظریاتی طور پر مضبوط کیا بلکہ عملی میدان میں بھی متحرک کیا۔ اس تنظیم کے ذریعے آسیہ اندرابی نے یہ ثابت کیا کہ خواتین کسی بھی تحریک میں محض معاون نہیں بلکہ قائدانہ کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اصولی مؤقف اختیار کیا اور کسی بھی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا، طویل نظربندیوں اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ یہی غیر متزلزل استقامت انہیں "آئرن لیڈی” کے لقب کی حقیقی مستحق بناتی ہے۔
ان کی ذاتی زندگی بھی اسی جدوجہد کا تسلسل پیش کرتی ہے۔ ان کے شوہر محمد قاسم فکتو طویل عرصے سے بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے دو افراد کا اس طرح مسلسل قربانیاں دینا اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ یہ جدوجہد محض سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک گہری نظریاتی وابستگی اور عملی ایثار کا تقاضا کرتی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی آسیہ اندرابی کی جدوجہد ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ وہ مسئلہ کشمیر کو حقِ خودارادیت کے عالمی اصول کے تناظر میں پیش کرتی ہیں اور عالمی برادری کو اس کے اپنے ہی طے کردہ اصولوں کی یاد دہانی کراتی ہیں۔ ان کا بیانیہ ایک اخلاقی اور قانونی بنیاد رکھتا ہے، جو عالمی ضمیر کو مخاطب کرتا ہے۔
اگر ان کی شخصیت کا جامع تجزیہ کیا جائے تو وہ چند بنیادی عناصر پر مشتمل نظر آتی ہے: غیر متزلزل نظریہ، بے خوف قیادت، دینی و سماجی اصلاح، تنظیمی بصیرت، اور مسلسل مزاحمت۔ یہی عناصر انہیں ایک غیر معمولی اور تاریخی کردار بناتے ہیں۔
آسیہ اندرابی کی زندگی تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا ایک ایسا روشن باب ہے جس میں ایمان، عزم، استقامت اور قربانی ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاسی رہنما بلکہ ایک نظریاتی و روحانی تحریک کی نمائندہ ہیں۔ ان کی داستان آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ:
جب نظریہ واضح ہو، ایمان مضبوط ہو اور مقصد مقدس ہو تو کوئی بھی طاقت انسان کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔
مشتاق احمد بٹ; سیکرٹری اطلاعات کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ







