مضامین

سڈنی سے نئی دہلی: سڈنی حملے کے پس پردہ پاکستان دشمن پروپیگنڈے کی کہانی

سڈنی : آسٹریلیا کے شہر میں بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے دوران ہونے والے فائرنگ کے سانحے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے میں 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ تاہم، اس سانحے کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی سازش سامنے آئی، جس میں بھارتی میڈیا نے سوشل میڈیا پر جھوٹی تصاویر اور دعوے پھیلا کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلایا۔

پاکستانی نوجوان شیخ نوید اس سازش کا شکار بن گئے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر واضح کیا کہ ان کی تصویر غلط طریقے سے شیئر کی جا رہی ہے اور وہ اس حملے میں ملوث نہیں ہیں۔ نوجوان نے اپیل کی کہ ان کی تصویر کا غلط استعمال بند کیا جائے تاکہ مزید ذہنی اذیت نہ ہو۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور من گھڑت الزامات نے حقیقت کو نظرانداز کر کے نفرت پھیلائی گئی۔ منظم جھوٹ اور پروپیگنڈا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے عالمی سطح پر پھیلایا گیا، جس سے حقیقی انسانی بہادری اور قربانی کو نظرانداز کر دیا گیا۔

واقعے کے دوران ایک عام شہری احمد العہمد نے بہادری کی مثال قائم کی۔ سفید قمیض پہنے یہ  شخص کار پارک میں دوڑ کر مسلح حملہ آور تک پہنچا، اس کا ہتھیار چھین کر قابو پایا اور بعد میں واپس کر دیا۔ اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور لوگوں نے اس کی بہادری کی تعریف کی، جس سے ممکنہ طور پر کئی زندگیاں بچ گئیں۔

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سانحہ ایک فرد کا جرم تھا اور پوری قوم کو بدنام کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز اقدام ہے۔ دہشت گردی کسی قوم یا مذہب سے منسلک نہیں، اور اس سانحے کو پاکستان سے جوڑنا انتہا پسندی، متاثرین کی مدد، اور کمیونٹی کی بحالی جیسے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی منظم کوشش تھی۔

اس سانحے نے یہ بات واضح کر دی کہ سچائی پر مبنی رپورٹنگ، انسانی ہمدردی، اور حقیقی بہادری کو اجاگر کرنا ضروری ہے، جبکہ جھوٹ اور پروپیگنڈا معاشرے میں نفرت اور تقسیم پیدا کرتا ہے۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button