مضامین

برہان وانی — جو شہید ہوکر بھی زندہ ہے

تحریر:نعیم اختر

قوموں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی نمودار ہوتی ہیں جو صرف چند لمحوں کے لیے نہیں، بلکہ صدیوں تک دلوں پر راج کرتی ہیں۔ ان کے کردار، فکر اور قربانی نہ صرف تاریخ کا دھارا بدلتے ہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی بنتے ہیں۔ برصغیر کی تاریخ میں شاہ اسماعیل شہید کی شجاعت، قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال قیادت، اور علامہ اقبال کی فکر انگیز دوراندیشی ایسے ہی روشن مینار ہیں، جن کا ذکر آج بھی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

1947میں جب برصغیر تقسیم ہوا اور پاکستان و بھارت کے نام سے دو آزاد ریاستیں معرضِ وجود میں آئیں، تو کشمیری قوم بھی آزادی کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ مگر افسوس، یہ خواب آج تک تعبیر سے محروم ہے۔ کشمیری سرزمین آج بھی بھارتی تسلط، جبر و استبداد اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ان کے بنیادی حقوق پامال، ان کی آواز دبائی جاتی ہے، اور ان کی امنگوں کا خون روز ہوتا ہے ۔

تین جون 1947 کے تقسیمِ ہند کے فارمولے کے تحت کشمیری عوام کو بھی امید کی ایک کرن دکھائی دی کہ اب وہ ظالم ڈوگرہ راج سے نجات پا لیں گے۔ مگر افسوس، اپنوں کی کمزوریوں اور غیروں کی سازشوں نے ایسا گھناؤنا کھیل رچایا کہ یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ کشمیری قوم ابھی پوری طرح ڈوگرہ استبداد سے آزاد بھی نہ ہوئی تھی کہ ہندو سامراج نے اس پر اپنا پنجہ گاڑھ دیا۔ یوں مقبوضہ جموں و کشمیر کا یہ بدنصیب خطہ دیکھتے ہی دیکھتے ہندو استعمار کی گرفت میں چلا گیا۔

چہرہ بدلا، نام بدلا، مگر کشمیریوں کی حالت جوں کی توں رہی۔ غلامی کا طوق باقی رہا، زنجیریں نہ ٹوٹیں۔ ظلم و جبر کا وہی سلسلہ ایک نئے روپ میں جاری رہا۔ وقت کے ساتھ اس دلدل نے اتنی گہرائی اختیار کی کہ کشمیری قوم کی کئی نسلیں اس میں آزادی کی تلاش میں قربان ہو گئیں۔

اپنی قوم کو آزادی کی بہار دکھانے کے لیے، حریت کے پروانوں نے تختۂ دار کو گلے لگایا، سرفروشوں نے اپنی جوانیاں بھارتی جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیں۔ ان کے جنازے بھی ان ہی سلاخوں سے نکلے، اور کئی نامور مجاہدین نے میدانِ کارزار میں جامِ شہادت نوش کیا۔ کشمیری قوم کے دلوں سے ان شہیدانِ وطن کی یادیں کبھی ماند نہ پڑ سکیں۔

تاہم جو شہرت، عظمت اور عشق و عقیدت کا مقام شہید برہان مظفر وانی کو حاصل ہوا، وہ کسی اور کے نصیب میں نہ آیا۔ تحریکِ آزادی کشمیر کی تاریخ اس کی کوئی دوسری نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ برہان نہ صرف ایک نام ہے، بلکہ ایک عزم، ایک تحریک، اور ایک ولولہ ہے—جو آج بھی کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں آزادی کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔

برہان مظفر وانی، ایک ذہین و فطین طالب علم، جس نے زندگی کی صرف 22 بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ اپنی مظلوم قوم کی آزادی کے لیے اپنی جوانی قربان کر دی۔ وہ پہلا مجاہد تھا جس نے روایتی گوریلا طریقوں سے ہٹ کر، عسکریت کا راستہ اپنانے کے باوجود اپنی شناخت کو چھپایا نہیں—بلکہ سوشل میڈیا کو آزادی کے پیغام کا ہتھیار بنایا۔

برہان جب اپنے مسلح ساتھیوں کے ساتھ ویڈیو پیغام جاری کرتا تو مقبوضہ کشمیر کا ہر نوجوان اس کی آواز کو توجہ سے سنتا۔ اس کا معصوم لہجہ، شفاف آنکھیں، اور سچے الفاظ دلوں کو چھو جاتے۔ بھارت کے اندر بھی باضمیر لوگ سوال اٹھانے لگے کہ ایک خوبصورت، ذہین نوجوان کو آخر بندوق اٹھانے پر کس نے مجبور کیا؟

برہان کا پیغام واضح اور غیر مبہم تھا: ہماری لڑائی بھارتی عوام سے نہیں، قابض حکومت سے ہے۔ وہ کہتا تھا، ” ہمیں کسی مذہب یا قوم سے دشمنی نہیں، ہمیں صرف اپنے وطن سے محبت ہے۔ ہم اپنی سرزمین کوباہر سے آئے ہوئے قابضین سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں”۔

برہان وانی کی گفتگو کشمیری نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن بن چکی تھی۔اس کی ہر ویڈیو کا شدت سے انتظار کیا جاتا، کیونکہ اس کی باتیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، بلکہ آزادی کا نغمہ ہوتیں۔ سوشل میڈیا پر برہان کی مقبولیت روز بروز بڑھتی گئی۔ وہ نوجوانوں کے لیے تحریک مزاحمت کا استعارہ بن گیا—ایک ایسا چراغ جس کی روشنی نے نہ صرف دلوں کو منور کیا بلکہ قدموں کو بھی راہِ حریت پر گامزن کر دیا۔جہاں کشمیری نوجوان اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جوق در جوق جدوجہدِ آزادی میں شامل ہوتے جا رہے تھے، وہیں بھارتی فوج اور ایجنسیوں کے لیے برہان ایک ایسا چیلنج بن گیا جس سے نمٹنا ان کے لیے دن بدن مشکل ہوتا گیا۔ برہان کی عمر اس وقت صرف پندرہ برس تھی، جب اس نے بندوق تھامی۔ عمر میں کم، مگر حوصلے میں بلند؛ جذبہ ایسا کہ دشمن نے اس کے سر کی قیمت بیس لاکھ روپے مقرر کر دی۔ یہ اعلان اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ ایک نوجوان کی آواز، ایک جذبے کی للکار—پورے قابض نظام کے لیے خطرہ بن چکی تھی۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے دس لاکھ سے زائد فوج، جدید اسلحہ، اور انسانیت سوز قوانین اسی لیے تھوپ رکھے تھے کہ کوئی سر نہ اٹھا سکے، اور آزادی کی آرزو سسک سسک کر دم توڑ دے۔ مگر جیسے ہی برہان وانی کی نئی ویڈیو منظر عام پر آتی، دشمن کی ساری حکمتِ عملی، سارا دبدبہ اور غرور خاک میں مل جاتا۔ جب بھارتی میڈیا امن و امان کے دعوے کرتا، عسکریت کے خاتمے کی نوید سناتا، تو برہان وانی ایک نئی ویڈیو کے ساتھ ظاہر ہو جاتا، اور پورے بیانیے کو چیلنج کر دیتا۔ اس کی موجودگی بھارتی افواج کے لیے ہزیمت، اور کشمیری قوم کے لیے فخر و عزت کی علامت بن چکی تھی۔ برہان نے طویل عرصے تک اپنے وجود سے دشمن کو جھنجھوڑے رکھا، اور قابض قوتوں کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ مگر بالآخر، 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے ہزاروں اہلکاروں اور ریاستی مشینری کے بے دریغ استعمال کے بعد، کشمیری قوم کے اس عظیم بیٹے کو شہید کر دیا۔

بھارتی حکمرانوں نے سمجھا کہ برہان وانی کو شہید کر کے وہ ایک بڑی کامیابی حاصل کر چکے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندہ برہان سے کہیں زیادہ خطرناک، اثر انگیز اور دائمی وجود شہید برہان کا بن گیا۔ وہ لمحہ جب برہان کی شہادت کی خبر پھیلی، پورے کشمیر پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا—فضا ماتم کناں، پہاڑ خاموش، اور ہر گلی کوچہ اشک بار۔ کشمیر کے در و دیوار نے اس شہادت کی گواہی دی، اور قوم نے ایسی والہانہ عقیدت پیش کی جس کی مثال کشمیری تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔

ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد نے نہ صرف ان کے جنازے میں شرکت کی بلکہ متعدد بار نمازِ جنازہ ادا کی۔ شہید کی آخری دید کے لیے کشمیریوں کا سمندر امڈ آیا۔ کئی گھروں میں پیدا ہونے والے بچوں کو اسی دن ‘برہان’ کا نام دیا گیا—یہ محض نام نہیں، ایک عہد اور ایک علامت بن گیا۔ ہفتوں اور مہینوں تک کشمیر غم، عزم اور مزاحمت کی تصویر بنا رہا۔ ہر بازار، ہر چوراہے، ہر مجلس میں صرف برہان کا تذکرہ گونجتا رہا۔ بھارت کے خلاف ایک ایسا انتفادہ برپا ہوا جسے دبانے کے لیے بھارتی فوج نے ہر ہتھکنڈا آزمایا—پیلٹ گن جیسے ممنوعہ ہتھیار، کرفیو، چھاپے، گرفتاریاں—مگر وہ عزم نہ جھکا، وہ جذبہ نہ ٹوٹا۔ درجنوں نوجوان شہید ہوئے، ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں سہتے رہے، سینکڑوں عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے، مگر کشمیریوں نے برہان کو مرنے نہیں دیا—وہ آج بھی زندہ ہے، ان کے دلوں میں دھڑکتا ہے، ان کی زبانوں پر گونجتا ہے۔

برہان نے فقط زبانی پیغام نہیں دیا بلکہ اپنی اٹھتی ہوئی جوانی کا نذرانہ دے کر مزاحمت کی تاریخ میں ایک نئی روح پھونک دی۔ اس کی شہادت نہ صرف خطے کے اخبارات کی شہ سرخی بنی، بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی اس واقعے کو نمایاں جگہ دی—برہان وانی، ایک نام نہیں، ایک نظریہ بن گیا ہے، جو آج بھی زندہ ہے… ہر دل میں، ہر نعرے میں، ہر آنکھ کے خواب میں۔

ہندوستان ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں برہان وانی کے والد، مظفر وانی نے کہا تھا: میرا بیٹا اس لیے عسکریت کی راہ پر نہیں چلا کہ وہ خود کسی ظلم کا نشانہ بنا تھا، بلکہ اس لیے کہ اس نے دوسروں کو ظلم سہتے دیکھا تھا۔ مظفر وانی نے مزید کہا: بھارت سے آزادی حاصل کرنا صرف میرے بیٹے کا نصب العین نہیں، یہ تو ہر کشمیری کی خواہش ہے۔

یہ احساسِ غیرت، یہ دردِ قوم، برہان کو ایک ذاتی احتجاج سے نکال کر پوری ملت کی آواز بنا گیا۔
تو سوال صرف اتنا ہے:
یہ مطالبہ کس کا ہے؟
یہ مطالبہ ہے آزادی کا۔
اور دنیا کی کوئی بھی مہذب قوم اس جائز اور بنیادی حق سے انکار نہیں کر سکتی۔
آج، اگرچہ ستمگاروں نے سانسوں پر بھی پہرے بٹھا دیے ہیں، ہر فضا پر خوف کا سایہ ہے، لیکن برہان اور اس کی قوم کی فکرِ آزادی دشمن کو آج بھی ستا رہی ہے۔
اسی لیے تو ظلم کی رفتار تیز تر ہو گئی ہے، اسی لیے جبر کی راتیں اور بھی گہری ہو رہی ہیں۔
عدو کی بے چینی، اس کا خوف، اور کشمیریوں پر بڑھتا ہوا تشدد اس بات کی گواہی ہے کہ برہان وانی اب بھی زندہ ہے۔
وہ صرف ایک نام نہیں، ایک صدا ہے جو ہر دل میں گونجتی ہے۔
وہ صدا جو دبائی نہیں جا سکتی۔
وہ گونج جو مٹائی نہیں جا سکتی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button