بنگلہ دیشمضامین

بھارت عثمان ہادی کا قاتل

تحریر: محمد شہباز

ابھی عثمان ہادی کی قبر کی مٹی گیلی ہی ہے کہ بھارتی دہشت گردوں نے ایک اور بنگلہ دیشی سیاسی رہنما کو نشانے پر لے لیا ہے۔بنگالی نوجوان رہنما حسنات عبداللہ کو سابق بھارتی فوجی میجر کی جانب سے اگلی باری تمہاری کی دھمکی دی گئی ہے جبکہ ایک سابق بھارتی کرنل نے بھی حسنات عبداللہ کو گردن میں گولی مارنے کی دھمکی دی ہے۔بنگلہ دیش کے نوجوان طالبعلم رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل نے جہاں پورے بنگلہ دیش میں شدید احتجاج اور مظاہروں کو جنم دیا ہے ۔وہیں بھارت کی جانب سے 1971کے بعد حد سے زیادہ مداخلت،انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی بے جا حمایت اور پاکستان کے خلاف مخاصمت و دشمنی کو ہوا دینے کی پالیسیوں کے خلاف بنگلہ دیشی عوام کے سینوں میں جو لاوا پک رہا تھا،وہ اگر جولائی 2024میں حسینہ واجد کے خلاف پھٹ چکا تھا،لیکن اب رہی سہی کیسر بھارت کے خلاف نکالی جارہی ہے۔جس کا عملی مشاہدہ شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد پوری دنیا کرچکی ہے۔، جو بنگلہ دیش میں بھارت کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے خلاف ایک توانا آواز تھے۔ پورے بنگلہ دیش میں یہ تاثر یقین میں بدل گیا ہے کہ ہادی کے قتل میں ملوث افراد بھارت فرار ہو گئے اور انہیں سزا سے بچا لیا گیا۔”شریف عثمان ہادی کیلئے انصاف” کا مطالبہ بنگلہ دیش کی سڑکوں پر مسلسل گونج رہا ہے، اور یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جمہوریت سے کس کو خوف ہے؟ نوجوانوں کو نشانہ بنانا جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے۔

عثمان ہادی کا خون ایک سوال بار بار پوچھتا ہے جس کا جواب دنیا کو دینا ہوگا۔کہ آخر ایک نوجوان رہنما جو بنگلہ دیش میں مذموم بھارتی عزائم کے حصول میں حائل تھا ،کیونکر راستے سے ہٹایا گیا ؟ آج ہر بنگلہ دیشی اس بات پر یکسو ہے کہ عثمان ہادی بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہے۔پاکستان متعدد بار عالمی سطح پر شواہد کیساتھ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کر چکا ہے،وہ چاہیے پاکستان کے اندر ہو،یا دوسرے ممالک میں۔حالیہ سڈنی واقعے میں بھی بھارتی شہریوں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 2020 میں آسٹریلیا نے بھارتی انٹیلیجنس سے منسلک اہلکاروں کو ملک میں جاسوسی سرگرمیوں پر ملک بدر کیا تھا۔اسی طرح کینیڈا اور امریکا میں سکھ رہنماوں پر حملوں میں بھی بھارتی خفیہ ادارے ملوث رہے ہیں، سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی سفارتکاروں کے شرپسند عناصر سے رابطوں کو بے نقاب کیا تھا جبکہ کینیڈین سرزمین پر خالصتان رہنما ہردیب سنگھ نجر کے قتل پر کئی ماہ تک کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات معطل رہے تھے۔امریکا میں سکھز فار جسٹس کے سربراہ گرو پتونت سنگھ پنون کے قتل کی سازش کے الزام میں بھی کرائے کے قاتل ایک بھارتی شہری نکھل گپتا گرفتار ہو چکا ہے جبکہ سری لنکا میں بھی بھارت دہائیوں تک تامل دہشت گردوں کی حمایت کرتا رہا جو طویل خانہ جنگی کا باعث بنے۔ خود بھارتی شہری، بالخصوص اقلیتیں بھی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کا قتل بھارتی ڈیپ اسٹیٹ کی عالمی سطح پر منظم دہشت گردی کی واضح مثال ہے لہذا اقوامِ عالم کو بھارت کی ریاستی دہشت گردی پر اسے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ اگر عثمان ہادی نشانہ بنائے گئے،تو حسینہ حکومت کا تختہ دھڑن کرنے والے دوسرے رہنما وں کی جانوں کی حفاظت کی ضمانت کون دے سکتا ہے؟ان لوگوں کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے آمریت،اقروبا پروری اور دھاندلی کی پیداوار اس حسینہ حکومت کو چلتا کیا،جس نے بھارت کے کہنے پر نہ صرف اپنے ہی ہزاروں ہم وطنوں کا خون بہایابلکہ سینکڑوں کو ٹارچر سیلوں میں بند رکھ کر ان پر تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش بطور خاص حسینہ مظالم کا نشانہ بنی۔جماعت کیساتھ وابستہ 70سے 90سالہ بزرگوں کو محض پاکستان کیساتھ محبت کرنے کے جرم میں سولیوں پر چڑھایا گیا۔پاکستان کیساتھ سرکاری سطح پر دشمنی کو ریاستی پالیسی کے بطور اختیار کیا گیا۔بنگلہ دیش میں پاکستانی سفارتخانے پر عوامی لیگ کے غنڈوں سے حملے کروانا معمول بنایا گیا تھا۔یہ سارے عوامل بنگلہ دیشی عوام کیلئے گھٹن کا باعث بنے،جس کا اظہار اگست2024میں حسینہ واجد حکومت کے خاتمے اور بھارت فرار ہونے پر منتج ہوا۔

بلاشبہ شریف عثمان ہادی کی شہادت نے مکروہ بھارتی عزائم کا پردہ چاک کیا ہے جو بنگلہ دیش میں آزادانہ طور پر انتخابات کے انعقاد اور عوامی ارادوں سے خوفزدہ ہیں۔مودی اور اس کے قبیل کو یاد رکھنا چاہیے کہ گولیاں جمہوریت کو قتل نہیں کر سکتیں، ہادی کی جدوجہد بنگلہ دیش کی سڑکوں پر آج بھی زندہ ہے۔ شریف عثمان ہادی کے قتل پر ڈھاکا سمیت ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اسے قبل مظاہرین نے شیخ مجیب الرحمن کے گھر میں توڑ پھوڑ کی،حسینہ واجد حکومت کے حامی اخبارات کے دفاتر اور دیگر عمارتوں کو آگ لگا دی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عثمان ہادی کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ ہے، بھارت 50 برسوں سے بنگلہ دیش کے سیاسی اور نظریاتی معاملات پر اثر انداز ہو رہا ہے، عثمان ہادی کا قتل بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں بھارتی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش نے بھارتی سفارتکار کو دفتر خارجہ طلب کرکے عثمان ہادی کے قاتلوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ قتل میں ملوث 2 مشتبہ ملزمان بھارتی سرحد سے غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے اور حملہ کرکے واپس بھارت فرار ہو گئے۔واضح رہے کہ12دسمبر کو بنگلہ دیش میں12 فروری 2026میں عام انتخابات کرانے کے اعلان کے محض ایک دن بعد یعنی 13دسمبر کو عثمان ہادی کو موٹر سائیکل سواروں نے سر پر گولی ماری تھی،انہیں علاج کیلئے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ 19دسمبر کو دم توڑ گئے تھے، ان کی میت جب ڈھاکا پہنچا ئی گئی۔تو عوام کا سمندر اُمڈ پڑا۔ان کی وصیت کے مطابق انہیں ڈھاکہ یونیور سٹی کے احاطے میں بنگلہ دیش کے قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کی قبر کے پہلو میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ان کی نماز جنازہ میں پورا ڈھاکہ شریک تھا۔کئی کلو میٹر تک لوگوں کی قطاریں لگی تھیں،جن میں بنگلہ دیش حکومت کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس اور امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش ڈاکٹر شفیق الرحمان بھی موجود تھے۔
عثمان ہادی شیخ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے میں طلبہ تحریک کے نمایاں رہنما تھے۔عثمان ہادی کے قتل پر عالمی برادری سے تحقیقات کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔اقوامِ متحدہ اور امریکہ نے بھی اس قتل پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اور تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ہادی کے خون کا مطالبہ قرین انصاف ہے، اور دنیا کو اس کا جواب دینا ہوگا۔بھارت کو اس بات پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے کہ اس نے اپنی سرحدوں سے باہر جبر کو سہولت کاری فراہم کی ہے۔عالمی برادری کو عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات کرنی چاہیے اور اس کے اصل مجرموں اور ان کے حامیوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔اب تو بھارتی وزارت خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں بھی بنگلہ دیش سے متعلق بڑا اعتراف کرلیا گیا۔رپورٹ جو ششی تھرور کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تیار کی ہے، میں اعتراف کیا گیا کہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل بھارت پر شک کررہی ہے ، وہاں اب پاکستان اور چین کا اثر بہت بڑھ چکا ہے۔رپورٹ میں بھارتی حکومت سے کہا گیا کہ اپنی پالیسیاں درست نہ کیں تو بنگلہ دیش میں بھارت غیر متعلق ہوجائے گا۔رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں سابقہ حکمران جماعت عوامی لیگ کا اثر ختم ہوچکا ہے اور بنگالی نوجوان بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔بھارتی وزارت خارجہ کی پالیمانی کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ سب حالات کو ایک نئے موڑ پر لے آئے ہیں اور بھارت کو 1971کے بعد بنگلہ دیش میں سب سے بڑے اسٹریٹجک بحران کا سامنا ہے۔اب بھارت بالخصوص مودی کے پاس کچھ نہیں بچا ہے۔2021میں جس ڈھاکہ یونیورسٹی میں گجرات کے قاتل مودی نے بڑے گھمنڈ اور غرور کیساتھ یہ کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی آزادی میں مودی کا بھی کردار ہے، آج اسی ڈھاکہ یونیورسٹی میں مودی کا پتلا نذر آتش اور یہ یونیورسٹی بھارت کے خلاف ایک مورچہ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔آج اسی ڈھاکہ یونیورسٹی کے شیخ مجیب ہال کا نام تبدیل کر کے "شہید عثمان ہادی ہال” رکھنے کا مطالبہ پوری شدت کیساتھ سامنے آیا ہے۔ ہال یونین کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ ہادی فسطائیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، اور وہ اس وقت دہلی میں چھپے ہوئے ہیں۔عالمی برادری نے اگر اب بھی بھارت کی ریاستی دہشت گردی،بھارتی مسلمانوں کو دیوار کیساتھ لگانے اور اہل کشمیر کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے ننگے جرائم پر خاموشی اختیار کررکھی ہے،تو یہ تاریخ کی بیخ کنی اور حالات کے جبر کو قبول کرنے کے مترادف ہوگا۔مودی کی سرکاری سطح پر ریاستی دہشت گردی کو نکیل ڈالنا ناگزیر ہوچکا ہے۔وررنہ نہ جانے مزید کتنے عثمان ہادی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button