` ارشد میر`
برصغیر کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی بھارت کو سیاسی، عسکری یا سفارتی سطح پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس نے داخلی بحرانوں سے توجہ ہٹانے اور خطے میں اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لیے جھوٹ، فریب،
پروپیگنڈے اور فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لیا۔ آج ایک بار پھر یہی کھیل نئے انداز میں کھیلا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین سیاسی، سفارتی اور عسکری ہزیمت نے بھارتی حکمران طبقے، ہندو انتہا پسند اسٹیبلشمنٹ اور جنگی جنون میں مبتلا میڈیا کو شدید ذہنی اضطراب اور بے چینی میں مبتلا کر رکھاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت اب پہلگام، پلوامہ اور چھٹی سنگھ پورہ جیسے مشکوک اور متنازع واقعات سے بھی آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔
بھارت کی موجودہ کیفیت ایک ایسے زخمی اور شکست خوردہ ذہن کی عکاسی کرتی ہے جو انتقام، نفرت اور ہندوتوا جنون میں اس قدر اندھا ہوچکا ہے کہ وہ اپنے ہی سیاسی ڈھانچے کو آگ لگانے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کے سابق سیکریٹری سمانت گھوئیل کا حالیہ بیان اسی خطرناک ذہنیت کا آئینہ دار ہے۔ بظاہر یہ بیان وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکیورٹی کے حوالے سے تھا لیکن درحقیقت اس کے پس منظر میں ایک خوفناک سیاسی اسکرپٹ پوشیدہ محسوس ہوتا ہے۔ جب ایک سابق اعلیٰ سطحی انٹیلی جنس آفیسر کھلے عام یہ تاثر دینے لگے کہ وزیر اعظم کو شدید خطرات لاحق ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسکی حقیقت کیا ہے؟ یہ خطرات کون اور کیوں پیدا کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ حقیقت نہیں تو ایسے سنسنی خیز وشوشے چھوڑنے کا مقصد کیا ہے؟
بھارتی ریاست کی تاریخ گواہ ہے کہ وہاں ہر بڑے بحران کے پیچھے یا تو سیاسی مفاد کارفرما ہوتا ہے یا جنگی بیانیہ۔ پلوامہ واقعہ آج بھی کئی سوالات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ چھٹی سنگھ پورہ قتلِ عام کے حوالے سے بنیادی حقائق آشکار ہونے کے باوجود بھارت پر سوالیہ نشانات ابھی بھی موجود ہیں۔ پہلگام جیسے واقعات کو بھی بارہا پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔ لیکن اس بار معاملہ کہیں زیادہ خطرناک اور مختلف دکھائی دیتا ہے کیونکہ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کسی نئے انداز میں انتہائی اقدام کی تیاری کر رہا ہے۔
سمانت گھوئیل کے بیان میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ انہوں نے مودی کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو “قومی سلامتی” کے بیانیے کی وجہ سے شدت پسند عناصر کا ہدف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بھارت میں “قومی سلامتی” کا مطلب کیا رہ گیا ہے؟ کیا مسلمانوں کو دیوار سے لگانا، اقلیتوں کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی تطہیر کرنا، گجرات سے دہلی تک خون کی ہولی کھیلنا، بابری مسجد کو شہید کرنا، کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کرکے پوری قوم کو فوجی بوٹوں تلے دبادینا اور پورے ملک کو ہندو راشٹر میں بدلنے کی کوشش کرنا ہی بھارت کی قومی سلامتی ہے؟ اگر یہی قومی سلامتی ہے تو پھر دنیا کو سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت کی ریاستی ساخت میں ہندو فسطائیت پوری طرح سرایت کر چکی ہے۔
بی جے پی کے حکومت میں ہونے کے سبب آج آر ایس ایس کا نظریہ صرف ایک سیاسی جماعت کا منشور نہیں بلکہ ریاستی پالیسی بن چکا ہے۔ فوج، میڈیا، عدلیہ، خفیہ ادارے اور حکومتی ڈھانچہ سب ایک انتہا پسند سوچ کے تابع دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا اور “را” سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس ایک منظم انداز میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلانے میں مصروف ہیں۔ حیران کن طور پر سب کی زبان، لہجہ اور الزامات ایک جیسے ہیں، گویا کسی مرکزی وار روم سے اسکرپٹ جاری کیا جا رہا ہو۔
اس صورتحال کے پیش نظر بعض حلقے یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ کیا نریندر مودی اب خود بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں؟ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ مودی کی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ بی جے پی کے اندر اقتدار کی کشمکش بڑھ رہی ہے۔ معاشی محاذ پر بھارت بے شمار مشکلات کا شکار ہے۔
سفارتی سطح پر بھی بھارت کو وہ پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی جس کا خواب مودی حکومت نے دیکھا تھا اور پہلگام جیسی واردات ڈالی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں بھارت کی سیکیورٹی اشٹیبلشمنٹ 2019 اور 2025 میں سیاسی مفادات کی خاطر فوج کو استعمال کرکے اسکو ذلیل اور روائتی جنگی صلاحیت میں اسکی برتری کوختم کرانے والے مودی کو قتل کرکے ان کی صورت میں ایک Liability کو ختم اور ساتھ ہی پاکستان کے خلاف کیس قائم کرکےایک تیر سے دوشکار کھیلنا چاہتی ہے؟بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ شاید بھارتی طاقتور حلقے مودی کو ایک “سیاسی قربانی” کے طور پر استعمال کرنے پر غور کر رہے ہوں تاکہ ایک بڑا بحران پیدا کرکے قوم پرستی اور جنگی جنون کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے کیونکہ پہلگام جیسے فالس فلیگ آپریشنز سے اب دنیا گمراہ نہیں ہورہی۔
بہر حال جو بھی ہو، یہ خطرناک سوچ ہے جس سے پورا خطہ عدم استحکام کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر بھارت واقعی کسی فالس فلیگ آپریشن یا کسی بڑی سیاسی واردات کے ذریعے پاکستان پر الزام عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو یہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے تباہ کن ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی عالمی برادری کو خبردار کر چکا ہے کہ بھارت ایک بار پھر دہشت گردی کا ڈرامہ رچا کر خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔
دوسری جانب بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندرا دویدی کا پاکستان کے خلاف ایٹمی حملے کی دھمکی پر مبنی بیان بھارتی جنون کی نئی انتہا کو ظاہر کررہا ہے۔ ایک ایٹمی طاقت کو یہ کہنا کہ “وہ فیصلہ کرے کہ تاریخ اور جغرافیے کا حصہ رہنا چاہتی ہے یا نہیں”، دراصل ایک غیر ذمہ دارانہ، متکبرانہ اور خطرناک ذہنیت کا اظہار ہے۔ یہ کوئی فوجی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ذہنی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ دنیا کو سوچنا چاہیے کہ اگر یہی زبان کسی اور ملک کے جرنیل نے استعمال کی ہوتی تو مغربی دنیا میں کیسا طوفان کھڑا ہو جاتا۔
پاک فوج نے بروقت اور دوٹوک انداز میں بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز،جنگجویاانہ اورتنگ نظر ذہنیت کا مظہر قرار دیا اور کہا گیا کہ پاکستان ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت اور جنوبی ایشیا کی ایک اہم حقیقت ہے جسے دھمکیوں، پروپیگنڈے یا جنگی جنون کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ حقیقت بھارت کو جتنی جلدی تسلیم ہو جائے، خطے کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک خودمختار ایٹمی ہمسایہ ملک کو ’جغرافیے‘ سے مٹانے کی دھمکی نہ کوئی تزویراتی اشارہ ہے، نہ سفارتی دباؤ۔ ایسی دھمکی ذہنی دیوالیہ پن، جنون اور جنگ پسندی کی عکاس ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ درحقیقت بھارت ہے جو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے، علاقائی عدم استحکام پیدا کرنے اور دنیا بھر میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کا ریکارڈ رکھتا ہے۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران بھارت کی مایوسی پوری دنیا میں بے نقاب ہوئی ہے، اسکو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، اس کے نتائج ناصرف پورے خطے بلکہ اس سے باہر بھی تباہ کن ہوں گے۔ اس کے نتائج بھارت کے لیے اسٹریٹیجک اور سیاسی طور پر بھی ناقابلِ قبول ثابت ہوں گے۔
آئی ایس پی آر کا یہ بیان دراصل پوری دنیا کے لیے ایک وارننگ ہے کہ بھارت کی موجودہ قیادت خطے کو آگ سے کھیلنے کی طرف لے جا رہی ہے۔ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کبھی ایسی زبان استعمال نہیں کرتی جو کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دے۔ لیکن بھارت میں ہندوتوا سوچ اس حد تک غالب آچکی ہے کہ وہاں جنگی جنون کو سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت نہ صرف ریاستی دہشت گردی میں ملوث رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ٹارگٹ کلنگ، خفیہ کارروائیوں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے کا بھی ریکارڈ رکھتا ہے۔ کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں بھارتی ایجنسیوں کے کردار پر اٹھنے والے سوالات نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ “دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت” کا دعویٰ کرنے والا ملک درحقیقت ایک خطرناک سیکورٹی اسٹیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
بھارت کا موجودہ طرزِ عمل انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک طرف آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری اور فوج و "را” کے سابق سربراہاں کے ذریعے امن اور مفاہمت کے بیانات دلوائے جاتے ہیں اوردوسری طرف ایٹمی حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، وزیر اعظم کے قتل کے خدشات کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر فالس فلیگ آپریشنز کے لیے ذہن سازی کی جاتی ہے۔ یہ “گڈ کاپ، بیڈ کاپ” کی وہی پالیسی ہے جس کے ذریعے بھارت عالمی برادری کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا آیا ہے۔
“بابا بنارس” جیسے "را "سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی حالیہ ٹویٹس اسی منظم مہم کا حصہ محسوس ہوتی ہیں۔ ان ٹویٹس میں فرضی انٹیلی جنس رپورٹس کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں مبینہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہر بار بغیر ثبوت کے پاکستان کو کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے؟ کیوں ہر بھارتی ناکامی کے بعد ایک نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے؟ اور کیوں بھارتی میڈیا بغیر تحقیق کے ریاستی بیانیے کا طوطا بن جاتا ہے؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت اپنی داخلی کمزوریوں، معاشی بحرانوں، سماجی تقسیم اور سیاسی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے مسلسل دشمن تراشی پر انحصار کر رہا ہے۔ پاکستان دشمنی اب بھارتی سیاست کی ضرورت بن چکی ہے۔ ہندوتوا سیاست نفرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، اس لیے کبھی کشمیر، کبھی مسلمان، کبھی پاکستان اور کبھی سکھوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
تاہم بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان نہ کمزور ہے، نہ تنہا اور نہ ہی غافل۔ پاکستانی قوم، افواج اور ریاستی ادارے بھارتی عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جنگِ مئی میں پاکستان نے جس طرح بھارتی غرور کو خاک میں ملایا، وہ آج بھی دہلی کے ایوانوں میں خوف کی صورت موجود ہے۔ یہی درد بھارت کو مزید بےچین، باؤلا، غیر متوازن اور خطرناک بنا رہا
ہے۔
جنوبی ایشیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ اگر عالمی برادری نے بھارت کے جنگی جنون، ہندوتوا انتہا پسندی اور فالس فلیگ سیاست کا بروقت نوٹس نہ لیا تو نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ صرف دو ملکوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خطے اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے عوام بھی ہوشیار رہیں۔ بھارت کی پروپیگنڈا مشینری ہر وقت ایک نیا بیانیہ گھڑنے میں مصروف ہے۔ اگر عوام نے لاپروائی دکھائی تو ممکن ہے کل کوئی نیا ڈرامہ رچا کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ بھارت کی حالیہ حرکات واضح پیغام دے رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں خطے کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کو سفارتی، عسکری اور اطلاعاتی ہر سطح پر مکمل تیاری اور بیداری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ دشمن صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ بیانیے، میڈیا، سائبر اسپیس اور عالمی رائے عامہ کے محاذ پر بھی سرگرم ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں بیدار ہوں، متحد ہوں اور حق پر قائم رہیں تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں شکست نہیں دے سکتی۔





