ارشد میر
ڈیجیٹل دور میں جہاں انٹرنیٹ کو انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے وہیں اس سہولت کی بندش کسی بھی معاشرے کیلئے محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی، معاشی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ حالیہ تحقیق، جس میں بھارت کو دنیا بھر مں انٹرنیٹ بندشوں کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ اس تلخ حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ جدید جمہوریت کے دعویدار ممالک کس طرح بنیادی انسانی حقوق کو محدود کرنے میں پیش پیش ہیں۔
یہ امر انتہائی حیران کن اور افسوسناک ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والی انٹرنیٹ بندشوں کے نصف سے زیادہ واقعات بھارت میں پیش آئے اور ان میں سے تقریباً 47 فیصد صرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریکارڈ کیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مخصوص خطے کو دانستہ طور پر ڈیجیٹل تاریکی میں دھکیلنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہے جس کا مقصد نہ صرف اطلاعات کے بہاؤ کو روکنا ہے بلکہ وہاں کے عوام کی آواز کو عالمی سطح تک پہنچنے سے بھی روکنا ہے۔
2016 میں برہان وانی کی شہادت کے بعد 203 دنوں تک جاری رہنے والی انٹرنیٹ بندش تاریخ کی طویل ترین پابندیوں میں سے ایک ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح ریاستی طاقت کو عوامی ردعمل کو دبانے کیلئے استعمال کیا گیا۔ اس دوران نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئںص بلکہ صحت، تجارت اور روزمرہ زندگی کے دیگر شعبے بھی مفلوج ہو کر رہ گئے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں پہلے ہی سیاسی اور سماجی دباؤ موجود ہو، وہاں انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت کی بندش عوام کو مزید تنہائی اور محرومی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق 2012 سے 2017 کے درمیان بھارت میں انٹرنیٹ بندشوں کا مجموعی دورانیہ 16,000 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا جس سے 3 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا۔ یہ نقصان صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات لاکھوں افراد کی روزی روٹی، کاروبار اور مستقبل پر بھی مرتب ہوئے۔ خاص طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر جیسے خطے میں، جہاں پہلے ہی معاشی مواقع محدود ہیں، اس قسم کی بندشیں لوگوں کیلئے زندگی کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ یہ بندشیں اکثر ایسے مواقع پر نافذ کی گئیں جو بنیادی طور پر پرامن نوعیت کے تھے، جیسے مذہبی تہوار یا عوامی اجتماعات۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ان اقدامات کا اصل مقصد امن و امان کو برقرار رکھنا نہیں بلکہ کسی بھی ممکنہ عوامی اظہار کو پہلے ہی مرحلے میں دبانا ہے۔ جب لوگوں سے اظہار رائے کا حق چھین لیا جائے، میڈیا تک رسائی محدود کر دی جائے اور اطلاعات کے تمام ذرائع مسدود کر دیے جائیں تو یہ ایک خاموش جبر کی صورت اختیار کر لیتا ہے جسے دنیا اکثر نظر انداز کر دیتی ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بار بار مواصلاتی بلیک آؤٹ کا نفاذ دراصل ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کرتا ہے جہاں اختلاف رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ یہ صورتحال نہ صرف آزادی اظہار بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ ڈیجیٹل حقوق آج کے دور میں انسانی حقوق کا ہی تسلسل ہیں اور ان کی خلاف ورزی کسی بھی مہذب معاشرے کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس تمام صورتحال کے باوجود عالمی برادری کی توجہ اس مسئلے پر اتنی مرکوز نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی۔ اگر کسی اور خطے میں اسی نوعیت کے اقدامات کیے جاتے تو ممکنہ طور پر عالمی ردعمل کہیں زیادہ سخت ہوتا۔ اس دوہرے معیار نے نہ صرف متاثرہ عوام میں مایوسی کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی انصاف کے نظام پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
اس تناظر میں ضروری ہے کہ بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ انٹرنیٹ کی بندش محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جس کے ذریعے عوامی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
اگر دنیا واقعی ایک پرامن اور منصفانہ عالمی نظام کی خواہاں ہے تو اسے ایسے اقدامات کے خلاف واضح اور مؤثر موقف اپنانا ہوگا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بھی وہی حقوق ملنے چاہئیں جو دنیا کے دیگر حصوں میں رہنے والے افراد کو حاصل ہیں۔ انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولت سے محرومی دراصل ان کے مستقبل سے محرومی کے مترادف ہے، اور اس ناانصافی کا ازالہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔







