تحریر: ارشد میر

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کا حالیہ دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی و علاقائی منظرنامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا واضح اظہار ہے۔ ان کا شاندار اور غیر معمولی استقبال اور اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اس امر کی علامت ہیں کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ جون میں ہمارے وزیر اعظم امارات گئے تھے جہاں ان کی زبردست مہمان نوازی کی گئی تھی مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور مجموعی طور پر دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق کیا گیا تھا ور وزیر اعظم پاکستان نے اس کے لئے انھیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی جس کو قبول کرکے صدر امارات نے اب جوابی دورہ کیا جس نے پاک امارات تعلقات کو اسٹریٹجک گہرائی عطا کی۔ انھوں نے وزیراعظم شہبازشریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق اور دوطرفہ تعاون کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا۔ملاقات میں سرمایہ کاری،توانائی، انفراسٹرکچر اور آئی ٹی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا جبکہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے پر ، عوامی روابط اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔
آپکو یاد ہوگا کہ 2019 میں جب پاکستان کے فارن ریزوز تقریبا ختم ہوگئے تھے اور سری لنکا کی طرح ڈیفالٹ کرنے والا تھا، تب چین کے ساتھ عرب امارات ہی تھا جس نے پاکستان کی اعانت کی۔ مئی 2022 میں عرب امارات کا صدر بننے کے بعد صدر محمد بن زید کا یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان اس اعتماد کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب صرف ایک بحران زدہ ملک نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا شراکت دار ہے۔
صدر امارات کے اس دورے کی اہمیت اور محرکات کو سمجھنے کے لئے ہمیں امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز، برطانوی جریدے” فنانشل ٹائمز” امریکی میگزین ”دی ڈپلومیٹ“ اور بھارتی اخبار دی ہندو کی حالیہ رپورٹس کو مد نظر رکھنا ہوگاجن میں انھوں نے برملا طور پر کہا کہ جنگ مئی میں پاکستان کی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت پر شاندار فتح نے نہ صرف جنوبی ایشیاء کا سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹیجک نقشہ بدل دیا بلکہ امریکہ سمیت اقوام عالم کی برداری میں پاکستان کی جو پذیرائی ہورہی ہے وہ بے مثال ہے۔
واشنگٹن ٹائمز نے 2025 کو پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی اور فیصلہ کن موڑ کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جنوبی ایشیا پالیسی میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہو چکی ہے، انڈیا فرسٹ کادور عملا ختم اور پاکستان کو واضح فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔ فنانشل ٹائمز نے پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل عاصم منیر کو (multi-aligner) یعنی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کا موثر معمار قرار دیا جو بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران سے روابط میں توازن رکھے ہوئے ہے۔ امریکی میگزین ”دی ڈپلومیٹ “نے پاکستان کو عالمی توجہ کا مرکز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ 2025 میں پاکستان کئی برسوں بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔ دوسری طرف بی جے پی اور ہندو انتہاء پسندی کے غلبہ کے باوجود اور حقائق سے پردہ پوشی کرنے کی عادت رکھنے والا بھارتی میڈیا بھی موہوم انداز ہی میں سہی سچ کہنے پہ مجبور ہے۔ دی ہندو کی تازہ رپورٹ ہے جس میں اس نے لکھا کہ 2025 بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا ۔ اس نے پاکستان، بنگلہ دیش اور امریکہ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ یہ سال بھارت کے وشوء گرو بننے کے دعوؤں کے غباروں سے ہوا نکالنے والے خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کے سال کے طور پر یاد رکھا جائے گاجس میں بھارت کو عالمی سطح پر باربار سفارتی سبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
جنگِ مئی میں کامیابی کے بعد پاکستان کی عالمی پذیرائی اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ وہ ممالک بھی اس کے ساتھ قریبی روابط بڑھا رہے ہیں جن کے آپس میں اختلافات یا رقابت پائی جاتی ہے، امریکہ ایران اور سعودی عرب ہی کی مثال لیجئے۔ عرب امارات کئی معاملات میں سعودی عرب کے ساتھ ایک صفحہ پہ نہیں ہیں۔ سعودیہ کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے کے بعد پاکستان کے ایران کے ساتھ تعلقات میں اتنی بہتری اور عرب امارات کے صدر کا دورہ محال نظر آتا تھا؟ مگر پاکستان کی اہمیت سب کے لئے یکساں طور پر بڑھ گئی ہے ۔ آپ یاد کیجئے جب مارچ 2019 میں ابوظہبی میں ہوئی او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں یو اے ای نے اسوقت کی بھارت وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس پر پاکستان نے اعتراض کیا تھا مگر اماراتی حکومت نے یہ اعراض قبول نہیں کیا جس کے بعد اسوقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کانفرنس ہی کا بائیکاٹ کیا تھا۔ مگر آج پاکستان کی اہمیت اور پذیرائی ہے۔ وہی یو اے ای آج پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات میں بہتری، تجارتی تعان اور شراکت داری بڑھانے کے علاوہ فلسطین ، افغانستان اور دیگر بین الاقوامی نوعیت کے معاملات میں پاکستان کی شمولیت کو اور مشاورت کو ضروری سمجھتا ہے۔ مجموعی طور پہ کہ یہ دورہ دو ملکوں کے تعلقات اور تعاون میں اضافہ ہی کا نہیں بلکہ پاکستان کے ایک عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھرنے کی غمازی کرتا ہے۔






