مقبوضہ جموں وکشمیر میں این آئی اے کے چھاپے ، تلاشی کی کارروائیاں

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق این آئی اے نے کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت پلوامہ، شوپیاں اور کولگام سمیت مختلف علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ چھاپوں کے دوران مولوی عرفان احمد وگے، ڈاکٹر عدیل، ڈاکٹر مزمل اور عامر رشید سمیت کئی گرفتار افراد کے گھروںکی بھی تلاشی لی گئی۔چھاپوں اورمظلوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا جواز پیش کرنے کے لئے ان کارروائیوں کو دہلی دھماکہ کیس سے جوڑا جارہاہے۔ایک نوجوان لڑکا، امام مسجد، ڈاکٹر اور ایک خاتون سمیت کم از کم چھ افراد اس وقت این آئی اے کی حراست میں ہیں۔مبصرین اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام سمجھتے ہیں کہ 10نومبر کو دہلی میں ہونے والا مشتبہ دھماکہ کشمیریوں اوربھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے بی جے پی حکومت ،” را” اور این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے وسیع منصوبے کا حصہ تھا۔ مبصرین کے مطابق 14نومبر کو سرینگر کے نوگام پولیس اسٹیشن میں ہونے والے دھماکے جس میں 9 افرادہلاک ہوئے تھے ،کا مقصد بھی دہلی دھماکے سے متعلق شواہد کو مٹانا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کے بڑھتے ہوئے چھاپے، گرفتاریاں اور دیگر ظالمانہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت غیر کشمیریوں کو علاقے میں آباد کرنے اور اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبانے کے لئے پی ایس اے اور یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کو بطورہتھیار استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارتی اقدامات عالمی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے قوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل خلاف ورزیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔





