قابض حکام نے شمالی اورجنوبی کشمیر میں وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض حکام معلومات تک رسائی کو روکنے کیلئے شمالی اورجنوبی کشمیر میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک ( وی پی این)کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قابض فورسز نے موبائل فون صارفین کی نگرانی میں اضافہ کرتے ہوئے وادی کشمیر کے کپواڑہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جس کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کاسامنا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ایسے ہی ایک حکم میں، شری کانت بالا صاحب سوسے، مجسٹریٹ کپواڑہ نے مبہم سکیورٹی خدشات اور مبینہ مشتبہ آن لائن سرگرمی کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی شہری تحفظ سنہتاکی دفعہ 163 کے تحت ضلع بھر میں وی پی این کے استعمال پر دو ماہ کے لیے پابندی عائد کردی ہے ۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کپواڑہ نے دعوی کیا کہ نامعلوم اور مشکوک انٹرنیٹ صارفین کی طرف سے وی پی این کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے کئی دیگر اضلاع میں پہلے ہی وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد ہے اور گزشتہ ماہ کے دوران وی پی این ایپلی کیشنز استعمال کرنے پر 10 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے ڈوڈہ ضلع میں دو کشمیریوں کے خلاف وی پی این استعمال کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ہدایت نامے کے تحت تمام افراد، اداروں، سائبر کیفے اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز کو وی پی این سروسز استعمال کرنے یا فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔قابض انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ یہ حکم عوام کو پیشگی اطلاع کے بغیر یک طرفہ طور پر جاری کیا گیا ہے ۔ سول سوسائٹی کے اراکین اور ڈیجیٹل حقوق کے کارکنوں نے بھارتی قابض انتظامیہ کے اس اقدام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے مقبوضہ علاقے میں اظہار رائے کی آزادی ، آن لائن پرائیویسی اور معلومات تک رسائی پر قدغن کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی، طلبا،پروفیشنلز اور عام شہری تعلیمی وسائل تک رسائی اور محفوظ طریقے سے بات چیت کے لیے وی پی این کا استعمال کرتے ہیں جنہیں پہلے ہی قابض انتظامیہ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش اور نگرانی کاسامناہے۔






