مقبوضہ جموں و کشمیر

یاسین ملک کے حلف نامے نے تنازعہ کشمیرکے انسانی المیہ کو اجاگر کر دیا

کشمیریوں سے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد ہونے کی اپیل

 

اسلام آباد:نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیرقانونی طور پر نظر بندکشمیری سیاسی رہنما محمد یاسین ملک کے حلف نامے نے طویل نظربندی، ان کے خلاف قائم متنازع مقدمے اور تنازعہ کشمیر کے گہرے انسانی المیے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے اورکشمیری عوام اور تارکین وطن کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاسین ملک کے دوستوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے 25 صفحات پر مشتمل حلف نامے میں انہوں نے اپنے خلاف عائد کئے گئے جھوٹے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دہائیوں پرانے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیاگیا ہے۔ انہوں نے حلف نامے میں 2000 میں رہائی کے بعد بھارتی سینئر حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا حوالہ بھی دیاہے۔یاسین ملک نے کہا کہ اس وقت کے بھارتی انٹیلیجنس بیورو کے سینئر افسر اجیت کمار ڈوول نے ان کی آئی بی ڈائریکٹر شیامل دت اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے قومی سلامتی کے مشیر برجیش مشرا کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا نظام کیاتھا۔ انہیں بتایا گیا تھاکہ واجپائی چاہتے تھے کہ وہ صحت مند رہیں اور امن اور مذاکرات کی کوششوں میں حصہ لیں۔ یاسین ملک نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکہ اور برطانیہ میں علاج کے لیے پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا اور بھارتی حکومت نے ان کے علاج کے لیے مالی امداد کی پیشکش کی تھی، جسے انہوں نے مسترد کر دیاتھا۔یاسین ملک کا کہنا تھا کہ ان حقائق نے استغاثہ کے ان کے خلاف موجودہ الزامات پر سوالیہ نشان لگا دیاہے اور ان کے خلاف مقدمے کو سیاسی رنگ دیاجارہا ہے۔حلف نامے کے مطابق، یاسین ملک نے اپنے خاندان اور موت کے امکان پر بھی غور کیا۔ انہوں نے اپنی والدہ، اہلیہ مشال ملک اور 13 سالہ بیٹی راضیہ سلطانہ سکومخاطب کرتے ہوئے اپنی طویل قید کے باعث خاندان کو درپیش مصائب پر تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ استخارے کے بعد انہوں نے مزید مقدمے کی کارروائی نہ چلانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو اعتراف جرم یا استغاثہ کے الزامات کو قبول کرنے کے طور پر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔یاسین ملک نے سزائے موت کی درخواست کی اور اپنے حلفنامے کو اپنا "آخری بیانِ” قرار دیتے ہوئے اپنی تقدیر اللہ کے سپرد کر دی۔یاسین ملک کے حلف نامے نے ایک بار پھر کشمیری معاشرے میں اندرونی تقسیم اور سیاسی رقابت کو ختم کرنے کے مطالبے پرزور دیا ہے۔ مبصرین کا کہناہے کہ سیاسی اختلافات کو کشمیریوں کے لیے ایک دوسرے پر سوال اٹھانے یا مختلف نظریات رکھنے والوں کو دشمن قرار دینے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں ہے، بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ لوگ نفرت کے بغیر اختلاف کریں، سیاسی حکمت عملیوں پر غیر انسانی اقدامات کے بغیر بحث کریں اور وقار، انصاف اور کشمیر کے سیاسی مستقبل جیسے بنیادی سوالات پر یکجہتی برقرار رکھیں۔انہوں نےعالمی برادری سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یاسین ملک کے کیس کا بغور جائزہ لے اور انصاف اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے۔مبصرین نے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہء کہ تنازعہ کشمیر ایک حل طلب دیرینہ مسئلہ ہے اور کشمیری سیاسی نظربندوں اور ان کے خاندانوں کودرپیش مصائب کو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے وسیع تر سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button