مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت ممکنہ طورپر ایک اور مہم جوئی کی تیاری کر رہا ہے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج ،پولیس اور انٹیلی جنس حکام کے پے درپے اعلیٰ سطحی اجلاسوں سے خدشہ پیدا ہوا ہے کہ بھارت انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی آڑ میں علاقے میں ایک اور مہم جوئی کی تیاری کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالن پربھات نے جنوبی کشمیر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں بھارتی فوج،پیراملٹری فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جی او سی پندرہویں کور، آئی جی پی کشمیر زون، جی او سی وکٹر فورس، راشٹریہ رائفلز، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سی اے پی ایف کے سینئر افسران سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں اسلام آباد، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام اضلاع پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں مزاحمتی کارروائیوں، انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، نگرانی اور دیگر امورپر تبادلہ خیال کیاگیا۔حکام نے حالیہ مہینوں کے دوران کیے گئے آپریشنز کا جائزہ لیا اور گرمیوں کے موسم سے قبل نچلی سطح پر انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو مضبوط کرنے،حساس علاقوں میں نگرانی بڑھانے اور مختلف ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
دریں اثناءڈی آئی جی شریدھر پاٹل نے ضلع جموں میں پاک بھارت سرحد کے قریبی علاقوں ملہ بھرور، جوگوان اور پلانوالہ میں پولیس کی تعیناتیوں اور سرحدی چوکیوں کا معائنہ کیا تاکہ آپریشنل تیاریوںکا جائزہ لیا جائے۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ بھارت ممکنہ فوجی مہم جوئی کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، کریک ڈاو¿ن اور کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافے سے پہلے اسی طرح مختلف ایجنسیوں کے اجلاس اور پے درپے سرحدی معائنے ہوتے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں جابرانہ اقدامات اور فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے اکثر سیکورٹی اور انسداد دہشت گردی کے بہانے استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی مہم جوئی خطے کی پہلے سے نازک صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button