سرینگر: ٹرانسپوٹروںکا انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارلحکومت سری نگر میں ٹرانسپورٹروں نے کئی روایتی راستوں کی بندش اور بڑی سڑکوں کا رخ موڑنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی حکام یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے ان کی روزی روٹی کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ نئی ٹریفک پابندیوں نے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار نجی ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مفلوج کر دیا ہے جس سے سینکڑوں خاندان مالی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری شیخ محمد یوسف نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پامپور، ناربل اور بڈگام جیسے راستوں کو اچانک بند کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صنعت پہلے ہی بہت زیادہ دباو¿ میں ہے اور اب ان اقدامات نے ہمارے ذریعہ معاش کو مزید تباہ کر دیا ہے جبکہ عام مسافروں کے لیے سفر ناقابل برداشت بن گیا ہے۔
ایک ٹرانسپورٹر مختار احمد نے کہا کہ نجی خدمات کی معطلی نے مسافروں خاص طور پر طلباءاور مریضوں کی مشکلات میں ضافہ کیا ہے۔
ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ پرائیویٹ ٹرانسپورٹ پر جاری پابندی مقامی آپریٹرز کو کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔







