APHC

مقبوضہ کشمیر : اقوام متحدہ بھارت کوغیر قانونی آبادکاری کے منصوبے پر عمل درآمدسے روکے ، حریت کانفرنس

سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ2027کی مردم شماری سے قبل بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آبادکرنے کے منصوبے پر عمل درآمد سے روکیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق آئندہ مردم شماری مقبوضہ علاقے میں یکم جون سے 30 جون تک دو مراحل میں کرائی جائے گی۔حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید مینہاس نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگست 2019 کے بعد سے بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر میں متعددکالے قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ ان میں نئے ڈومیسائل اور زمینی قوانین، شہری املاک کو مسمار کر نا، کشمیریوں کو ان کی زمینوں سے بے دخلی اور مقامی ملازمین کو ان کی نوکریوں سے نکالنا شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غیرکشمیریوں کیلئے روزگار کے مواقع اور مقبوضہ کشمیرمیں اراضی کی خریداری کی اجازت دیدی ہے تاکہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جا سکے۔حریت ترجمان نے مزید کہا گیا کہ کشمیری سرکاری ملازمین کو ان کے جائز عہدوں سے برطرف کرنا سول انتظامیہ میں مقامی آبادی کو پسماندہ کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اسے مقامی آبادی کے خلاف ایک گہری سازش قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "آبادکارانہ استعمار کی یہ مہم نئے متعارف کردہ ڈومیسائل قوانین کی آڑ میں شروع کی گئی ہے۔بیان میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کوایک عملی جیل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اختلافی آوازوں کو طاقت کے زور اورکالے قوانین کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے۔حریت ترجمان نے کہا کہ 2023 میں بھارتی حکومت نے پیراملٹری سہلکاروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ وادی کشمیر ، جموں اور لداخ میں رہائش پذیر باشندوں کے ڈیٹا کی تیاری کو تیز کریں۔ یہ کام بارڈر سیکیورٹی فورس، انڈو تبتی بارڈر پولیس اور سنٹرل ریزرو پولیس فورس کو سونپا گیا تھا۔اگست 2019میں دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ اس غیر قانونی اقدام کا مقصد متنازع خطے کی آبادیاتی اور سیاسی شناخت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت طاقت کے استعمال کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ خوف اور دہشت کے ماحول میں کشمیری عوام کو اپنی شناخت اور حقوق کی بحالی کے لئے آواز اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک بھارت کشمیریوں کے جمہوری اور سیاسی حقوق بحال نہیں کرتا، خطے میںدیرپا امن قائم نہیں ہوسکتا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button