بھارت

اقتصادی ترقی کے مودی حکومت کے دعوے بے نقاب، لوگ غربت کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور

اسلام آباد:بھارت کی معیشت میں رواں برس اپریل تا جون 7.8% اضافے کا دعوی ٰکیا گیا ہے تاہم بھارتی عوام کو اس وقت جس غریت ، اقتصادی بدحالی اوربے روزگاری سامنا ہے ، مودی حکومت ان اعداد و شمار کے ذریعے اس پر ہرگز پردہ نہیں ڈال سکتی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں بھارت کی معیشت نے سالانہ بنیاد پر 7.8% کی شرح نمو درج کی، جو پچھلے پانچ سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم یہ شاندار اعداد و شمار لوگوں کی معاشرتی اور اقتصادی مشکلات کو چھپاتے ہیں اور انہیں جس ابتر صورتحال کا سامنا ہے اسی حقیقی تصویر پیش نہیں کرتے۔بھارت کو عالمی سطح پر پانچویں سب سے بڑی معیشت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ اعزاز دولت کی غیر مساوی تقسیم اور عوامی مشکلات کو چھپاتا ہے، دولت چند ہاتھوں میں مرکوز ہے جبکہ لاکھوں افراد سرکاری راشن اور معمولی آمدنی پر گزارا کرتے ہیں۔ بھارت میں گوکہ شدید غربت 2011-12 کے 16.2% سے کم ہو کر 2022-23 میں تقریباً 2.3% تک آ گئی ہے، جس سے تقریباً 171 ملین افراد شدید غربت سے نکلے۔ تاہم بہت سے لوگ اب بھی غربت کی حد کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، اور بالائی طبقے کے 1% افراد کے پاس تقریباً 73% دولت مرکوز ہے، جو اقتصادی عدم مساوات کو واضح کرتا ہے۔نوجوانوں میں بے روزگاری سنگین شکل اختیار کرچکی ہے۔ 2025 میں مجموعی بے روزگاری کی شرح تقریباً 5.1%-5.6% رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 6.5%-7.1% رہی اور بعض رپورٹس کے مطابق نوجوانوں کی بے روزگاری 13.8%-19% تک پہنچ گئی۔ کئی تعلیم یافتہ نوجوان باقاعدہ ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور کم اجرت والے غیر رسمی شعبوں جیسے ٹیکسی ڈرائیونگ اور فوڈ ڈلیوری پر مجبور ہیں۔ یہ عدم توازن جی ڈی پی کے مثبت اعداد و شمار کے باوجود ایک "خاموش بحران” کی نشاندہی کرتا ہے۔دیہی آبادی کا بڑا حصہ زراعت پر منحصر ہے، لیکن بڑھتی ہوئی اخراجات، قرض اور حکومتی معاونت کی کمی کے باعث کسانوں کو مشکلات اور احتجاج کا سامنا ہے۔شہری علاقوں میں غیر رسمی شعبہ روزگار غالب ہے، جس میں نوکری کی حفاظت، سماجی فوائد اور پنشن کی کمی ہے، جو کارکنوں کو اقتصادی جھٹکوں کے لیے غیر محفوظ بناتا ہے۔بھارت مسلسل ذہنی ہجرت کا شکار ہے، بھارت میں ماہر پیشہ وارانہ افراد بیرون ملک منتقل ہو جاتے ہیں،جس سے وہ اپنے ملک کے بجائے غیر ملکی معیشتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
2025 کے کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں سے 96 ویں نمبر پر ہے، جس کا اسکور 38 ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر کرپشن کی نشاندہی کرتا ہے جو حکمرانی اور اداروں کی کارکردگی متاثر کرتی ہے۔ حساس رپورٹس میں تاخیر اور مشکوک شماریاتی طریقے شفافیت اور اعتماد کے مسائل پیدا کرتے ہیں، اور اقتصادی کارکردگی کا غیر حقیقی تاثر دیتے ہیں۔میڈیا کی آزادی میں2025 میں بھارت کو 180 ممالک میں سے 151 ویں نمبر پر رکھا گیا، جو آزاد صحافت پر شدید پابندیوں اور خطرات کو ظاہر کرتا ہے، جس سے اقتصادی اعداد و شمار اور حکمرانی کا تنقیدی جائزہ متاثر ہوتا ہے۔
بھارت بڑے ماحولیاتی بحرانوں سے دوچار ہے، جیسے دہلی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شامل ہے۔ خواتین کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ ہے، شہری سرویز میں 40% خواتین غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ بچوں کی مزدوری اب بھی عام ہے، لاکھوں بچے خطرناک صنعتوں میں کام کرتے ہیں، حالانکہ اس پر قانونی پابندی ہے۔ صحت اور تعلیم کے معیار میں فرق سماجی کمزوریوں کو بڑھاتا ہے۔
درحقیقت 7.8% جی ڈی پی کی نمو بھارت کی اقتصادی صلاحیت کا کسی طور مظہرنہیں ہے ۔ یہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے ۔بھارتی شہری غربت کے ہاتھوں تنگ ہیں ، نوجوان بے روزگاری کے باعث خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں ۔ اقتصادی ترقی کے بی جے پی حکومت کے دعوے سوائے دھوکے کے کچھ نہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button