قابض حکام نے جموں میں کالے قانون کے تحت ایک شہری کی جائیداد ضبط کر لی

جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے” کے تحت جموں میں کروڑوں روپے مالیت کی ایک اورجائیداد ضبط کر لی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے جموں میں سدرہ کے علاقے توی وہار میں 1,501مربع فٹ کے پلاٹ پر تعمیر کیاگیا دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کرلیا۔ یہ جائیدادجس کی قیمت تقریبا 2 کروڑ روپے ہے، فردوس احمد بٹ ولد ولی محمد بٹ کی ملکیت ہے جو ضلع اسلام آباد کے علاقے ہوگام سری گفوارہ کا رہائشی ہے۔پولیس نے دعوی کیا کہ یہ کارروائی مٹن پولیس اسٹیشن میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں کی گئی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں جموں و کشمیر کے لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں اور ذریعہ معاش سے محروم کرنے اور انہیںہراساں کرنے کی بھارتی حکومت کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مودی حکومت مقامی لوگوں کے اثاثوں کی ضبطی کا جواز پیش کرنے کے لئے اکثر انہیں دہشت گرد ، منشیات فروش یاملک دشمن قرار دے رہی ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں نے بارہا نشاندہی کی ہے کہ ان جابرانہ اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر کمزورکرنا اور ضبط شدہ املاک پر غیر مقامی لوگوں کو آبادکرکے علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔





