جائیداد ضبط

پیپلز فریڈم لیگ کاپارٹی سربراہ فاروق رحمانی کی جائیداد ضبط کرنے کی مذمت

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز فریڈم لیگ نے بھارتی حکام کی طرف سے ضلع بانڈی پورہ میں پارٹی کے چیئرمین اورسینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی کی آبائی غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیپلز فریڈم لیگ کے ترجمان محمد عمر نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد فاروق رحمانی کے خلاف بھارتی حکام کی طرف سے درج کی گئی ایف آئی آرجھوٹی اور من گھڑت ہے جس کا مقصد کشمیری عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مودی امیت شاہ اسٹیبلشمنٹ جس کے پاس مقبوضہ علاقے پر حکومت کرنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز نہیں ہے، بوکھلاہٹ اور ناکامی کی وجہ سے اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔ محمد عمر نے کہا کہ املاک کی ضبطی، حریت رہنمائوں کی نظربندی یا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو دبانے سے کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی پرامن جدوجہد سے نہیں روکا جاسکتا جس کی ضمانت کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں دی گئی ہے۔اگست 2019 میں دفعہ370کی منسوخی کے بعد سے مودی حکومت نے کشمیریوں کی جائیدادوں کو زبردستی ضبط کرنے کی اپنی پالیسی کو تیز کر دیا ہے جس کا مقصد علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے ان زمینوں کو غیر کشمیری ہندو آباد کاروں کے حوالے کرنا ہے۔ترجمان نے بھارت کے غیر قانونی اورجابرانہ ا قدامات کی شدید مذمت کی اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ ایسے قوانین کی منسوخی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیں جن کے تحت املاک کو ضبط کیا جارہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بنیادی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے۔بھارتی حکام نے 28مارچ کو محمد فاروق رحمانی کی جائیدادیں ضبط کیں جس میں 33کنال اراضی اور ایک رہائشی مکان شامل ہے جس کی مالیت 7کروڑ روپے سے زائد ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button