بیساکھی کی تقریبات میں شرکت کے بعد سکھ یاتریوں کی واپسی، پاکستان کے انتظامات کو سراہا

لاہور : بیساکھی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے بھارتی سکھ یاتریوں کا دورہ ہفتہ کو اختتام پذیر ہو گیا، شرکاءنے علاقائی امن، ہم آہنگی اور پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاتریوں نے گوردوارہ ڈیرہ صاحب میں مذہبی رسومات ادا کیںجہاں انہوں نے امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے اجتماعی دعائیں کیں۔ خالصہ جنم دن کے سلسلے میں مذہبی اور ثقافتی تقریبات منعقد ہوئیں جو کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں۔حضوری باغ میںیاتریوں کے اعزاز میں ثقافتی اور موسیقی کا پروگرام منعقد کیا گیا جبکہ ورلڈ سنٹر فار پنجابی کے تحت دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری میں خصوصی تقریب ہوئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری ناصر مشتاق نے کہا کہ پاکستان سکھ برادری کے ساتھ اپنے تعلق کو اولین ترجیح دیتا ہے اوریاتریوں کے لیے مکمل مذہبی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی اور ای ٹی پی بی کے چیئرمین قمر الزمان کی ہدایت پر بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی گئی ہیں اورپاکستان کے دروازے سکھ یاتریوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔انہوں نے تہوار کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ، صحت کے حکام، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی مربوط کوششوں کو بھی سراہا۔ یاتریوںنے لاہور میں اپنے قیام کے دوران قلعہ لاہور سمیت مختلف تاریخی اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا اور ڈبل ڈیکر ٹورسٹ بسوں میں سوار ہو کر والڈ سٹی، مال روڈ اور لبرٹی چوک کا دورہ کیا۔ وہ انارکلی بازار اور شاہ عالم مارکیٹ جیسی نمایاں مارکیٹوں میں بھی گئے جہاں انہوں نے کپڑے، جوتے اور دیگر مقامی مصنوعات خریدیں۔ جتھا لیڈر سردار سرجیت سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گوردوارے نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ ان کی دیکھ بھال اور خوبصورتی بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے رہائش، طبی سہولیات اور ٹرانسپورٹیشن کے بہترین انتظامات کی تعریف کی۔دیگر یاتریوں نے بھی معیاری سفری سہولیات، پینے کے صاف پانی، معیاری خوراک اور لنگر کی اچھی سروسز کی فراہمی پر اطمینان کا اظہار کیا اور مہمان نوازی پر حکومت پنجاب اور ای ٹی پی بی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔







