16 دسمبر: سقوطِ ڈھاکہ سے APS سانحہ تک،بھارت کی پاکستان دشمنی، سازشوں اور خطے کو عدم استحکام میں دھکیلنے کی تاریخ

تحریر: ارشد میر
16 دسمبر پاکستان کی قومی تاریخ کا وہ زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہوا۔ یہ صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی سیاست، بھارت کی توسیع پسندانہ سوچ اور پاکستان دشمنی کے تسلسل کی ایک علامت ہے۔ 1971 کا سقوطِ ڈھاکہ ہو یا 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ہونے والا لرزہ خیز قتلِ عام، ان دونوں واقعات کے تانے بانے پاکستان دشمنی کے زہر میں گھُلی بھارت کی اسی مستقل پالیسی سے جا ملتے ہیں جس کا مقصد پاکستان کو کمزور و غیر مستحکم کرنا اور خطے میں اپنی بالادستی کو قائم رکھنا ہے۔
یہی تاریخ ہمیں یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے کہ بھارت کی پاکستان دشمنی کوئی وقتی ردعمل یا علاقائی اختلاف نہیں بلکہ ایک مسلسل اور منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تانے بانے 1947 سے لے کر آج تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ دراصل برسوں پر محیط بھارتی سازشوں اور سیاسی مداخلتوں کا نتیجہ تھا۔ بھارت نے مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسند عناصر کو نہ صرف منظم کیا بلکہ مکتی باہنی جیسے گوریلا گروپس کی ٹریننگ، فنڈنگ اور عسکری معاونت کی۔ RAW کی تشکیل کے فوراً بعد مشرقی پاکستان ہی اُس کا پہلا بڑا ٹارگٹ بنا۔ بھارتی فوجیوں کو مکتی باہنی کے لباس میں سرحد پار بھیجا گیا، پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا گیا ، بنگلہ دیش میں باقاعدہ فوج کشی کی گئی اور بالآخر 16دسمبر 1971 کو پاکستان کے اس حصے کو علیحدہ کروا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ خطے کے امن کو بھی روند ڈالا۔
اس سانحے کے بعد بھی بھارت کی پاکستان دشمنی کم ہوئی نہ اسکی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسی بدلی بلکہ اس نے پوری خطے پر اپنی بالادستی کے لیے جارحانہ اور توسیع پسندانہ رویہ مزید بڑھا دیا۔ کشمیر پر جابارنہ تسلط، پاکستان پر کئی بار جارحیت، دہشت گردی کی سرپرستی، سری لنکا میں فوج کشی اور باغی تامل ٹائیگرز کی سرپرستی، نیپال پر اقتصادی ناکہ بندی، بھوٹان کو مکمل طور پر انحصار میں رکھنا، بنگلہ دیش میں سیاسی مداخلت، مالدیپ کی اندرونی سیاست میں اثراندازی ،سکم کا جبری الحاق اور انڈومان و نکوبار پر قبضے، یہ سب مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ بھارت نہ اپنی سرحد کا احترام کرتا ہے اور نہ اپنے ہمسایوں کی حاکمیت اور جغرافیائی خودمختاری کا۔ پاکستان چونکہ نظریاتی، جغرافیائی اور اسٹریٹجک اعتبار سے بھارت کے منصوبوں کے خلاف سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس لیے بھارت کی سب سے زیادہ دشمنی بھی ہمیشہ پاکستان کے لیے مخصوص رہی ہے۔
اسی پالیسی کی بدترین مثال 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ ہے جس میں 156 معصوم بچوں اور بعض استانیوں کے خون سے وہ ہولی کھیلی گئی کہ آنے والے دہائیوں میں بھی اسکا تذکرہ پر انسانیت کانپنے گی۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس انسانیت کشی کے لئے بھی 16 دسمبر کی تاریخ ہی کا انتخاب کیا گیا۔بہت سے پاکستانیوں کے لئے کوئی اتفاق نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمارا دشمن کتنا کمینہ خصلت اور عداوت میں مغلوب ہے ۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ پاکستانی قوم اس دن سقوطِ ڈھاکہ کے غم کو یاد کرتی ہے چنانچہ اسی نفسیاتی لمحے کو استعمال کرکے پاکستان کے دل کو ایک اور چیرہ لگایا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ ٹی ٹی پی افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں کام کرتی چلی آرہی ہے۔ بہت پہلے سے جلال آباد اور قندھار میں بھارتی قونصل خانے دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور انٹیلی جنس فراہم کرتے رہے۔ پاکستان میں گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات اور بین الاقوامی رپورٹس نے بھی RAW اور TTP کے گٹھ جوڑ کی تصدیق کی ہے۔ APS حملہ پاکستان کے دل پر حملہ تھاجہاں معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ پاکستانی قوم کو دوبارہ اسی طرح توڑا جائے جیسے 1971 میں توڑا گیا تھا۔ لیکن اس بار دشمن کی خواہش پوری نہ ہو سکی، قوم متحد ہوئی، سانحے کا بدلہ لیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔
بھارت کی پاکستان دشمنی کا تاریخی اور مستقل رویہ کشمیر کے مسئلے میں بھی پوری شدت سے نظر آتا ہے۔ بھارت نے 1947 سے ہی جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور گزشتہ سات دہائیوں میں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کو لاپتہ کیا۔ پیلٹ گنز کے ذریعے بچوں اور خواتین کی بینائی تک چھینی، گھروں کو توڑا، زمینیں ضبط کیں، نوجوانوں کو بغیر مقدمے کالے قوانین کے تحت قید کیا اور 2019 کے بعد ڈیموگرافک انجینئرنگ کے ذریعے کشمیر کی شناخت بدلنے کی مہم شروع کی۔ عالمی ادارے، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، انسانی حقوق کی تنظیمیں، سب بھارتی مظالم کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث بھارت پہلے سے زیادہ بے خوف ہو چکا ہے۔ کشمیر آج دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل بن چکا ہے، جہاں لوگ مسلسل خوف، نگرانی، عسکری قبضے اور جبری خاموشی کے سائے میں جی رہے ہیں۔
سقوطِ ڈھاکہ سے لے کر آج تک بھارت کی مسلسل جارحیت کا مقصد یہی رہا ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم رکھا جائے، اسے علاقائی طاقت بننے سے روکا جائے اور خطے میں بھارت کی اجارہ داری قائم رہے۔ چاہے وہ پاکستان کے خلاف پانی کا ہتھیار استعمال کرنا ہو، عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہویا پاکستان کے داخلی معاملات میں دہشت گردوں کے ذریعے مداخلت،بھارت کی پالیسی ہمیشہ ایک ہی سمت میں رہی ہے کہ پاکستان کو ختم کرنا یا کم از کم دباؤ میں رکھنا، نقصان پہنچانا اور کمزور کرنا ہے۔
16 دسمبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دشمن آج بھی وہی ہے، اس کی سوچ بھی وہی ہے اور اس کی حکمت عملی بھی وہی ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پاکستان آج زیادہ مضبوط، زیادہ باشعور اور زیادہ متحد ہے۔جنگ مئی کے بعد پاکستان اسکی روائتی جنگی صلاحیت کی برتری کو بھی ختم کرچکا۔ سقوطِ ڈھاکہ نے ہمیں اتحاد کی اہمیت سکھائی اور APS کے شہداء نے ہمیں ثابت قدمی کا درس دیا۔ پاکستان کی سلامتی، استحکام اور مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے داخلی انتشار سے باہر نکل کر یہ سمجھیں کہ دشمن کی سازشیں آج بھی جاری ہیں اور خطے کا سب سے بڑا امن دشمن بھارت ہی ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی فورمز پر بھارت کے مظالم، کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں اور خطے میں بھارتی مداخلت کے جغرافیائی اثرات کو بے نقاب کرنے کی بھرپور سعی کرتا رہے۔ 16 دسمبر کا پیغام یہی ہے کہ تاریخ سے سیکھنے والی قومیں مستقبل میں شکست نہیں کھاتیں۔ سقوطِ ڈھاکہ اور APS کے زخم ہمیں مایوس نہیں بلکہ بیدار کرتے ہیں انھوں نے ہمیں اس کمینہ خصلت دشمن کو اور زیادہ سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ آج بھی اس کے عزائم وہی ہیں، لیکن آج کا پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، متحد اور پرعزم ہے۔ امن، استحکام اور کشمیر کی آزادی کے لیے ہماری جدوجہد سرینگر سے اسلام آباد تک جاری ہے اور قومیں اسی وقت سرخرو ہوتی ہیں جب وہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتی ہیں اور کشمیر و پاکستان کے پاس یہ حوصلہ موجودہے۔ الحمد للہ





