مضامین

بھارتی طلبہ کی کامیاب تحریک، مودی حکومت کی پسپائی اور کشمیر کا چبھتا سوال 

تحریر: ارشد میر

بھارت کی حالیہ سیاسی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ طلبہ کی ایک ملک گیر احتجاجی تحریک نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ برطانوی روزنامہ دی گارڈین کے مطابق 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مودی حکومت کو اتنے شدید عوامی دباؤ کے نتیجے میں اپنے انتہائی قریبی ساتھی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کرنا پڑا۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران مودی حکومت کو ایک ایسی حکومت تصور کیا جاتا رہا ہے جو شدید عوامی دباؤ، سیاسی تنقید اور احتجاجی تحریکوں کے باوجود پسپائی اختیار کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔
اس احتجاجی تحریک کا آغاز ایک اہم قومی امتحان کے پرچے کے لیک ہونے سے ہواجس کے باعث تقریباً 20 لاکھ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا پڑا۔ لاکھوں نوجوانوں نے اسے صرف ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ بدعنوانی، نااہلی اور مستقبل سے کھلواڑ قرار دیا۔ اس واقعے کو متعدد طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا جس کے بعد نوجوانوں نے "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک منفرد احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ ابتدا میں ان کا مطالبہ صرف وزیر تعلیم کے استعفے تک محدود تھا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک حکومتی احتساب، شفافیت، جمہوری آزادیوں اور نوجوانوں کے حقوق کی وسیع تر تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر ریکارڈ تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے جبکہ احتجاج دہلی سے نکل کر مختلف ریاستوں، حتیٰ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر اقتدار علاقوں تک پھیل گیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تحریک کی ایک اور اہم خصوصیت یہ رہی کہ اس نے پہلی مرتبہ بی جے پی کی مضبوط سمجھی جانے والی سوشل میڈیا مشینری کو بھی دفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔ لاکھوں نوجوانوں کی ویڈیوز، طنزیہ میمز اور احتجاجی مہمات نے حکومتی بیانیے کو پس منظر میں دھکیل دیا اور خود مودی کی نوجوانوں سے براہ راست رابطے کی کوششیں بھی تنقید اور طنز کا نشانہ بنتی رہیں۔
یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا نوجوان طبقہ اب صرف روزگار، امتحانات یا تعلیمی مسائل تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ حکمرانی، شفافیت اور احتساب جیسے بنیادی جمہوری اصولوں کے لیے بھی آواز بلند کر رہا ہے۔
تاہم اس تحریک کے پس منظر میں ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہےجسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حال ہی میں سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے 2024 کے درمیان بھارت میں تقریباً 13 ہزار طلبہ نے خودکشیاں کیں۔ یہ اعداد و شمار محض انفرادی سانحات نہیں بلکہ پورے بھارتی تعلیمی نظام کی ناکامی، بدعنوانی، غیر منصفانہ امتحانی نظام، ذہنی دباؤ اور ریاستی بے حسی کا عکاس ہیں۔ ایک ایسا تعلیمی ڈھانچہ جو نوجوانوں کو امید دینے کے بجائے مایوسی، بے یقینی اور نفسیاتی دباؤ کی طرف دھکیل دے، وہ اصلاح کا نہیں بلکہ بنیادی تبدیلی کا متقاضی ہوتا ہے۔ امتحانی پرچوں کا بار بار لیک ہونا، میرٹ کی پامالی، کرپشن اور نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔طلبہ کی حالیہ تحریک نے اس نظام کے خلاف ایک مضبوط احتجاج ضرور ریکارڈ کرایالیکن اس تحریک نے ایک اور بنیادی سوال بھی جنم دیا ہے۔
اور وہ سوال ہے مقبوضہ جموں وکشمیر کا۔۔۔
یہ حقیقت ہے کہ بھارتی طلبہ کے احتجاج کو ملک کے تقریباً ہر طبقے کی حمایت حاصل رہی۔ معروف فلمی اداکار، فنکار، دانشور، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکن، کانگریس، عام آدمی پارٹی اور دیگر قومی سیاسی جماعتیں کھل کر ان طلبہ کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ میڈیا نے ان کی آواز کو نمایاں جگہ دی، عدالتوں میں درخواستیں دائر ہوئیں، سیاسی بیانات آئے اور حکومت کو بالآخر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔لیکن جب یہی سوال کشمیر کا آتا ہے تو پورا منظر یکسر بدل جاتا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے نوجوان ریاستی جبر، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، کالے قوانین، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور سیاسی حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں۔ ان احتجاجوں کا جواب مذاکرات یا اصلاحات سے نہیں بلکہ بندوق، پیلٹ گن، کرفیو، گرفتاریوں اور طاقت کے بے دریغ استعمال سے دیا گیا۔
یہی وہ تضاد ہے جو بھارت کے جمہوری دعوؤں کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے۔
دہلی میں اگر دو نوجوانوں کو پیلٹ لگتے ہیں تو راہل گاندھی انہیں اپنے ساتھ میڈیا کے سامنے لے آتے ہیں، سیاسی قیادت ان کے زخموں کو قومی مسئلہ قرار دیتی ہے اور پورا ملک ان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔ لیکن کشمیر میں ہزاروں نوجوان پیلٹ گنز کا نشانہ بنے، سینکڑوں بینائی سے محروم ہوئے، کم سن بچے مستقل معذوری کا شکار ہوئے، یہاں تک کہ ڈیڑھ سالہ معصوم بچی حبا کی آنکھ بھی پیلٹ لگنے سے ضائع ہوگئی مگر بھارت کے اجتماعی ضمیر پر کوئی خاص اثر نہ ہوا۔ نہ بڑی سیاسی جماعتیں ان کے حق میں سڑکوں پر نکلیں، نہ فلمی ستاروں نے ان کے لیے مہم چلائی اور نہ ہی سول سوسائٹی نے اسی شدت سے ان کی آواز بلند کی۔یہ دوہرا معیار ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے۔
اگر بھارت واقعی کشمیر کو اپنی دیگر ریاستوں کی طرح ایک معمول کی ریاست اور جائز حصہ سمجھتا ہے تو پھر کشمیریوں کے ساتھ رویہ راجستھان، بہار، مغربی بنگال، آندھرا پردیش یا ہریانہ جیسا کیوں نہیں؟ اگر کشمیر بھی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو وہاں اظہارِ رائے، احتجاج، سیاسی سرگرمیوں اور بنیادی شہری آزادیوں پر وہی حقوق کیوں حاصل نہیں جو باقی ریاستوں کے شہری استعمال کرتے ہیں؟
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ بھارتی معاشرے سے بھی ہے۔
کشمیر میں تو محرم کے جلوس نکلنے نہیں دئے جاتے کجا کہ کشمیری نوجوانوں کو دہلی میں طلبہ کی طرح احتجاج کے لئے جمع ہونے دیا جائے۔ یہاں بھارت کو کتابوں میں تاریخی حقائق کا ذکر بھی برداشت نہیں۔ صحافیوں، وکلاء، اساتذہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ اگر کسی ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہو جائے تو محض دو روز کے اندر تقریباً 3500 نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ یہ اجتماعی سزا اور ریاستی جبرکا ایسا بھیانک سلسلہ ہے جس کی بھارت میں جھلک بھی نہیں ملتی۔ ہے۔ اور یہ کشمیر اور بھارت کے درمیان اس فرق کو ثابت کرتا ہے جو بتاتا ہے کہ دونوں کی قانونی، سیاسی، جغرافیائی، تہذیبی، نفسیاتی اور تاریخی حیثیت جداگانہ ہے اور جسے بھارتی حکمران اور میڈیا ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر کل کوکشمیری نوجوان انہی پابندیوں، گرفتاریوں، کالے قوانین، اظہارِ رائے پر قدغن، سیاسی خاموشی اور ریاستی جبر کے خلاف مکمل طور پر پرامن احتجاج کریں تو کیا یہی بھارتی طلبہ اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والے یہی سیاسی رہنما، فلمی شخصیات، سول سوسائٹی اور قومی جماعتیں ان کشمیری نوجوانوں کے ساتھ بھی اسی جرات اور خلوص کے ساتھ کھڑی ہوں گی؟
تاریخی تجربہ اس سوال کا جواب نفی میں دیتا ہے۔
اسی لیے گارڈین کی رپورٹ کے تناظر میں ایک اور اہم سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کیا بھارتی طلبہ کی یہ کامیاب تحریک صرف دہلی اور دیگر بھارتی شہروں تک محدود رہے گی، یا اس کے اثرات کشمیر تک بھی پہنچیں گے؟ کیا اس تحریک کے نتیجے میں کشمیریوں کو کم از کم وہ سیاسی گنجائش، اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری حقوق میسر آئیں گے جن کا مطالبہ آج خود بھارتی طلبہ کر رہے ہیں؟ کیا بھارتی نوجوان کشمیریوں کو مسلسل حاشیے پر دھکیلنے کے عمل کو روک سکیں گے، یا کشمیر ایک مرتبہ پھر بھارتی جمہوریت کے اس استثنا کا شکار رہے گا جہاں قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے پیمانے باقی ملک سے مختلف ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جمہوریت کا اصل امتحان اس کے مخالفین، ناقدین اور کمزور طبقات کے ساتھ اس کے رویے سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف اکثریتی آبادی کے ساتھ برتاؤ سے۔ اگر دہلی کے طلبہ کے لیے انصاف ضروری ہے تو سری نگر، شوپیاں، پلوامہ، بارہمولہ اور کپواڑہ کے نوجوان بھی اسی انصاف کے مستحق ہیں۔ اگر ایک طالب علم کا مستقبل مقدس ہے تو کشمیری طالب علم کا مستقبل بھی اتنا ہی قیمتی ہونا چاہیے۔
بھارت میں طلبہ کی حالیہ تحریک نے یقیناً یہ ثابت کر دیا ہے کہ منظم عوامی جدوجہد طاقتور حکومتوں کو بھی جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ لیکن یہ تحریک اس وقت تک مکمل اخلاقی اور جمہوری کامیابی حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کے ثمرات ان کشمیری نوجوانوں تک بھی نہ پہنچیں جو برسوں سے انہی بنیادی حقوق، اظہارِ رائے، سیاسی آزادی، انصاف اور انسانی وقارکے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بصورت دیگر بھارتی جمہوریت اور اسکی ان تحاریک پر سوال کا بوجھ ہمیشہ قائم رہے گا کہ کیا اس کے حقوق صرف بھارت کے شہریوں کے لیے ہیں، یا ان کشمیریوں کے لیے بھی جو دہائیوں سے انصاف اور آزادی کی دہائیاں دے رہےہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button