بھارت :”آئی لو محمدۖ” لکھنے پر مقدمے کے اندراج کیخلاف مسلمانوں کا ملک گیر احتجاج
نئی دہلی: بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر کانپور میں عید میلاد النبیۖ کے موقع پر” آئی لو محمدۖ”کے بینرز لگانے پر مقدمے کے اندراج کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے جس کا اظہارنماز جمعہ کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے کیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احتجاج کرنے والے مسلمانوں نے ” آئی لو محمد ۖ”کے بینر زاور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگراپنے نبی ۖسے محبت کا اظہار جرم ہے تو بھارت کا ہر مسلمان اس جرم کا ارتکاب اپنے لئے باعث سعادت سمجھتا ہے۔ احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی مسلمان سرگرم نظر آئے اور”آئی لو محمدۖ” کے پوسٹ شیئر کئے۔ مظاہرین نے کانپور میں درج کئے گئے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاجی مظاہرے کانپور ، آگرہ، حیدر آباد، احمد آباد،ممبئی، پربھنی، برہان پور، جھارکھنڈ اور دیگر مقامات پر کئے گئے۔ کانپور میں مقدمات درج کرنے کے خلاف شاردا نگر میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے ایک جلوس نکالا۔ مظاہرین نے” آئی لو محمدۖ ”کے بینرزاور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے پولیس سے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔کانپور کے علاقے سید نگر میں بارہ ربیع الاول کے جلوس کے دوران کچھ لوگوں نے” آئی لو محمد ۖ”کے بینرز لگائے تھے۔ ایک ہندو لیڈر نے اسے نئی روایت قرار دیتے ہوئے پولیس سے شکایت کی اورحیرت انگیزطور پر پولیس نے مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ اس کے بعد سے مسلسل احتجاج کیاجارہاہے۔ آگرہ میں فتح پور سیکری کی شاہی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعدبڑی تعداد میں لوگ صحن ِ مسجد میں جمع ہوئے اور ایف آئی آر کے اندراج کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ مسلمانوں کے اس احتجاج میں بھیم آرمی کی آگرہ اکائی کے نائب صدر ستیہ پال اوردیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔
ادھر تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں بھی لوگوں نے نماز کے بعد احتجاج کیا۔ انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھاآئی لو محمدۖ۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ اگر نبیۖ سے اظہار محبت کی پاداش میں ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ مہاراشٹر،گجرات اور جھارکھنڈ کے کئی شہروں میں بھی عاشقان رسول ۖنے کانپور پولیس کی حرکت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ہر جگہ لوگوں نے ”آئی لو محمدۖ” کے بینر زاور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے”آئی لو محمد ۖ” کی پوسٹ شیئر کی اور کہا کہ حضورۖسے محبت کا اظہار ہرمسلمان کا حق ہے اور ایف آئی آر کو فورا ختم کیا جانا چاہیے۔ ایکس (سابقہ ٹویٹر)پر دن بھر ہیش ٹیگ” آئی لو محمدۖ” ٹرینڈ کرتا رہا اور ہزاروں لوگوں نے اپنے پروفائل اور پوسٹ میں یہی جملہ لکھ کر یکجہتی کا اظہار کیا۔









