معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کے کیس کی سماعت 29جنوری تک ملتوی

جموں :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں ہائی کورٹ نے جیل میں نظر بند رکن اسمبلی معراج ملک پر کالاقانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کرنے کے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اس کی نظربندی کو مزید طول دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈوڈہ کے رکن اسمبلی معراج ملک کی نظربندی کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت ہفتے کو ہونی تھی۔ تاہم ہائی عدالت نے تعطیلات کے بہانے کارروائی ملتوی کر دی اور سماعت کی اگلی تاریخ 29 جنوری 2026مقرر کی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ معراج ملک نے ڈوڈہ کے ڈپٹی کمشنر ہرویندر سنگھ اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی۔قانونی ماہرین اورانسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ سماعت کو بار بار ملتوی کرنا اورقانونی عمل میں تاخیر مقبوضہ علاقے میں سیاسی رہنمائوں اور اختلافی آوازوں کی نظربندی کو طول دینے کے لیے استعمال کیا جانے والا بھارتی حکام کا ہتھکنڈا ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ اس طرح کی تاخیر حبس بے جا کے خلاف درخواستوں کے مقصد کو ختم کرتی ہے اور یہ انصاف سے محرومی کے مترادف ہے، خاص طور پر ایسے کیسز میں جن میں متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ شامل ہو جو طویل مدت تک بغیر کسی مقدمے کے نظربند رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ عدالتوں اور قابض انتظامیہ کی جانب سے تاخیری حربوں کا استعمال جبر کے ایک رحجان کی عکاسی کرتا ہے جہاں قانونی عمل کو ہی سیاسی مخالفت اور عوامی آوازوں کو دبانے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔





