مودی کا بھارت: 2025 میں 50 مسلمان قتل،انسان سے زیادہ گائے اور اس کا پیشاب مقدم
ارشد میر
نریندر مودی کے زیرِ اقتدار نام نہاد سیکولر بھارت کی اصل تصویر اب کیش بیرونی دشمن کے پروپیگنڈے کی محتاج نہیں رہی بلکہ خود بھارت کے اندر سے آنے والی رپورٹس اس ہولناک حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہیں کہ یہ ملک تیزی سے ایک ہندو فسطائی ریاست میں ڈھل چکا ہے جہاں مسلمان کی جان، اس کی عزت اور اس کا وجود بے قیمت جبکہ گائے، حتیٰ کہ اسکا پیشاب مقدم اور ریاستی و مذہبی درجہ کا حامل بن چکا ہے۔ سال 2025 میں سامنے آنے والی SAJC کی India Persecution Tracker رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں دو معصوم بچوں سمیت 50 مسلمان قتل کئے گئے۔ ان میں 27 مسلمان ہجومی تشدد میں اور23 پولیس، مسلح افواج یا دیگر ریاستی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس کے علاوہ دو ایسے کیسز بھی رپورٹ ہوئے جن میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے تشدد اور ہراسانی کے بعد مسلمانوں نے خودکشی کر لی۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ اس بھارت کی جھلک ہیں جہاں ایک خاص مذہبی شناخت رکھنے والا شہری ریاست کے لیے قابلِ قربانی سمجھا جاتا ہے۔
یہ وہی بھارت ہے جو عالمی سطح پر جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے دعوے کرتا ہے مگر اندرونِ ملک اس کی ریاستی مشینری ایک خاص طبقے کو دیوار سے لگانے میں مصروف ہے۔ جب پولیس، فوج اور دیگر ادارے مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہوں اور پھر بھی کوئی جوابدہی نہ ہو تو یہ محض “بدانتظامی” نہیں بلکہ ایک منظم نظریاتی ریاستی رویہ بن جاتا ہے۔ اس ماحول میں مسلمان ہونا خود ایک جرم بنتا جا رہا ہے اور یہی وہ فضا ہے جس میں ہندو فسطائیت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔
بھارت آج ایک ایسے فکری، اخلاقی اور تہذیبی زوال کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں اقلیتی انسان، خصوصاً مسلمان کی جان، اس کی عزت اور اس کے بنیادی حقوق ارزاں ہو ئے جبکہ گائے، حتیٰ کہ اس کا پیشاب تک مقدس، قیمتی اور ریاستی سرپرستی یافتہ شے بن چکا ہے۔ نریندر مودی کے زیرِ قیادت ہندو فسطائی نظام میں بھارت محض ایک جمہوری ریاست نہیں رہا بلکہ ایک نظریاتی تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں عقل، سائنس، انسان دوستی اور تکثیریت کی جگہ توہمات، مذہبی جنون اور اکثریتی تعصب نے لے لی ہے۔ اس تضاد کا سب سے ہولناک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ بھارت میں نہ صرف “گائے کے پیشاب اور گوبر” سے کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ بعض ہندو انتہا پسند تنظیمیں اور آیورویدک ادارے گائے کے پیشاب کو نہ صرف کینسر بلکہ ایڈز، شوگر اور دل کے امراض کا علاج بھی قرار دے رہے ہیں۔ اسکی ترویج کے لئے گائے کے گوبر اور پیشاب سے نہانے کے باقاعدہ فیسٹولز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پہ اسکی افادیت بیا ن کی جاتی ہے۔ اس پہ المیہ یہ کہ سرکاری وسائل اور سرپرستی میں باقاعدہ ادارے بھی قائم کئے جاتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ یہ سرکاری وسائل پھر کرپشن او ر لوٹ مار کی نذر بھی ہوجاتے ہیں۔ سرکاری وسائل سے مدھیہ پردیش میں کی ناناجی دیش مکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی میں اسی طرح کا ایک Gaumutra, Gobar Cancer Cure Project قائم کیا گیا جو نہ صرف سائنسی بنیادوں سے عاری نکلا بلکہ اس میں سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے۔۔ بھارت کے معتبر انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس منصوبے کے لئے صرف خام مال کے لئے ہی حکومت نے پونے دو کروڑ روپے الاٹ کئے تھے۔ تحقیقات میں ساڑھے تین کروڑ روپے کے غبن کا پتہ چلا۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ یہ “علاج” واقعی کارگر ہے یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک ریاست اپنے شہریوں کو جدید میڈیکل سائنس، تحقیق اور علاج فراہم کرنے کے بجائے انہیں توہم پرستی کی طرف کیوں دھکیل رہی ہے؟ اس کا جواب اسی ہندو فسطائی سوچ میں چھپا ہے جس کے تحت بھارت کو ایک کثیرالثقافتی، سائنسی اور جمہوری معاشرے کے بجائے ایک جنونی مذہبی ریاست میں بدلا جا رہا ہے۔ اس ریاست میں گائے محض ایک جانور نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت ہےجس کے ذریعے اکثریتی بالادستی اور اقلیتوں کی تحقیر کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ مودی کے بھارت میں اگر آپ مسلمان، دلت، عیسائی یا سکھ ہیں تو آپ کی جان، آپ کی صحت اور آپ کے وجود کی کوئی حیثیت نہںی لیکن، اگر آپ ایک گائے ہیں تو آپ کے لیے خصوصی قوانین، پولیس فورس، عدالتیں اور حتیٰ کہ اسپتال بھی موجود ہیں۔ آپ کا فضلہ اور پیشاب بھی مقدم ہے۔
مودی کے بھارت میں یہ تضاد انتہائی واضح ہے: ایک طرف مسلمان بچوں کو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے، بزرگوں کو ہجومی تشدد میں قتل کیا جاتا ہے، ان کے گھروں پر بلڈوزر چلائے جاتے ہیں، انہیں جیلوں میں ڈالا جاتا ہے یا ہراساں کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ خودکشی پر مجبور ہو جائیں اور دوسری طرف گائے کے لیے خصوصی قوانین،خصوصی تحفظ، خصوصی پولیس فورس اور اب تو “طبی معجزات” بھی گھڑے جا رہے ہیں۔ انسان کی جان سستی مگر گائے کا پیشاب مہنگا اور مقدس۔
یہ صورتِ حال بھارت کے صحت کے نظام کو بھی ایک مذاق بنا دیتی ہے۔ کروڑوں لوگ غربت، ناقص اسپتالوں اور مہنگی دواؤں کی وجہ سے کینسر جیسے امراض کے سامنے بے بس ہںھ۔ مگر ریاست انہیں حقیقی علاج دینے کے بجائے ‘گو مترء’ جیسے توہمات تھما رہی ہے۔ یہ صرف لاعلمی نہیں بلکہ ایک خطرناک دھوکہ ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مریض بروقت اور مؤثر علاج سے محروم رہتے ہیں اور ان کی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس طرح انسان کی زندگی کو دانستہ طور پر قربان کر کے ایک نظریاتی علامت یعنی گائے کو برتر ثابت کیا جاتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہی بھارت دنیا کو اپنی خلائی کامیابیوں، ڈیجیٹل ترقی اور سائنسی پیش رفت کے قصے سناتا ہے۔ شائننگ انڈیا اور وشوء گرو کے بلندو بانگ دعوے کے جاتے ہیں مگر اسی ملک میں ریاستی سرپرستی میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ گائے کا پیشاب کینسر کا علاج کر سکتا ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ اصل مقصد سائنس یا صحت نہیں بلکہ ایک مخصوص مذہبی شناخت کو ہر شعبۂ زندگی پر مسلط کرنا ہے۔
جب ایک ریاست انسان کو اس کے مذہب کی بنیاد پر قتل ہونے دے اور دوسری طرف جانور اور اسکے پیشاب کو تقدس اور فوقیت عطا کرے، تو وہ دراصل اپنی اخلاقی بنیادیں کھو چکی ہوتی ہے۔ مودی کے بھارت میں یہی ہو رہا ہے۔ مسلمان کی جان، اس کا خون اور اس کی تکلیف ارزاں ہے مگر گائے ہی نہیں بلکہ اس کا پیشاب تک مقدس اور قیمتی بن چکا ہے۔ یہ ایک ایسا فکری دیوالیہ پن ہے جس میں انسانیت کو روند کر توہم پرستی کو تخت پر بٹھایا جا رہا ہے۔
آخرکار، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ایسی ریاستیں جو اپنے شہریوں کے بجائے جہالت و جنونیت پر مشتمل نظریاتی بتوں کی پوجا شروع کر دیں، وہ دیرپا نہیں ہوتیں۔ بھارت آج اسی راستے پر گامزن ہے جہاں گالی اور گولی مسلمان کو لگتی ہے اور دوا گائے کے پیشاب سے ڈھونڈی جاتی ہے۔ یہ وہ ہندو فسطائی بھارت ہے جہاں انسان کی ارزانی اور توہم کی بالادستی نے پورے معاشرے کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسی ریاستیں دیرپا نہیں ہوتیں کیونکہ جب انسان کو ارزاں اور توہم کو قیمتی بنا دیا جائے تو وہ معاشرہ خود اپنے ہی بوجھ تلے دب کر ٹوٹ جاتا ہے۔







