مضامین

برہان وانی : تحریک آزادی کو ایک نئی جہت دینے والا عظیم کشمیری نوجوان

تحریر: پیرزادہ مد ثر 

تحریک آزادی کشمیر میں ایک نئی روح پھونکنے اورسوشل میڈیاکے ذریعے اسے ایک نئی جہت دینے والے خوبرو کشمیری نوجوان برہان مظفر وانی کی شہادت کی آج 9ویں برسی ہے ۔ محض 16برس کی عمرمیں جدوجہد آزادی  میں  شامل ہونے والا  یہ نوجوان 8جولائی 2016کو اپنی نذر پوری کرنے کے بعد خالق ارض و سما کے حضور پیش ہو ا۔وہ تقریباً 7برس تک تحریک آزادی کے افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہا اور اس دوران اس تحریک کو ایک نئی  پہہچان دی۔
برہان وانی کم عمر ضرور تھا لیکن جو شہرت اور عزت اس کے حصے میں آئی ہے شاید ہی کسی اور کو حاصل ہوئی ہو۔ برہان وانی 19ستمبر 1994 کو ضلع پلوامہ کے علاقے ترال شریف آباد میں استاد مظفر وانی کے گھر پیدا ہوا تھا۔ چونکہ والد اوروالدہ دونوں درس وتدرس کے شعبے سے وابستہ تھے لہذا یہ ا ن ہی کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ برہان دسویں جماعت تک اپنی کلاس میں اول آتا رہا۔ جدوجہد آزاد ی کے ایک پرُ خار راستے کا انتخاب برہان کا کوئی جذباتی فیصلہ نہ تھا بلکہ اسکا سبب قابض بھارتی فوجیوں کی چیرہ دستیاں تھیں۔ بے لگام فوجیوں نے ایک روز برہان کو گاﺅں کے دیگر لڑکوں کے ہمراہ اس وقت بلاوجہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا جب وہ کرکٹ کھیل رہے تھے ۔یہ بہیمانہ کارروائی برہان کیلئے سخت رنج وغم اور ذہنی اذیت کاباعث بنی اوروہ شیر میسور شہید ٹیپو سلطانؒ کے اس قول” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑکی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے“کی عملی تصویر بن گیا۔برہان نے اپنی ذہانت وقابلیت سے سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک آزادی کو ایک نیا موڑدیااور کشمیری نوجوانوں میں بھارتی تسلط سے آزادی کی ایک نئی تڑپ پیدا کی۔وہ براہ راست نوجوانوں کو مخاطب کرکے انہیں تحریک آزادی کا حصہ بننے کی دعوت دیتا رہا۔ اسے نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کا فن بخوبی آتا تھا۔ وہ ہمیشہ اپنی دعوت کا آغاز قرآن پاک کی آیات سے کرتے تھے۔ یہ برہان وانی کی پر تاثیر گفتگو کا نتیجہ تھا کہ سینکڑوں نوجوان انکی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تحریک آزادی میں شامل ہوگئے اور یوں اس تحریک کو ایک نئی توانائی ملی۔جدید ہتھیاروں سے لیس برہان وانی اور انکے دیگر ساتھوں کی سوشل میڈیا تصاویر اور ویڈیو پیغامات نے کئی برس تک بھارتی فورسز اور خفیہ اداروں کی نیدیں حرام کیے رکھیں ۔
بھارتی فوجیوں نے برہان وانی کے بڑے بھائی خالد مظفر کو2015 کے اوائل میں اس وقت شہید کیا جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک سیاحتی مقام پر موجود تھا ۔اس سفاکانہ کاروائی کا مقصد برہان کا عزم وحوصلہ کمزور کرنا تھا،مگر فولادی عز م کا مالک یہ جری نوجوان کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے پر تیار نہ ہوا اور غاصب بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد عزم وہمت سے جاری رکھی یہاں تک 2016ءمیں آج ہی کے دن سرزمین کشمیر کا یہ عظیم بیٹا اپنے دو ساتھیوں سرتاج احمد اور پرویز احمدکے ہمراہ کوکر ناگ میں قابض بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگیا۔برہان کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی پورا مقبوضہ کشمیر بھارت کے خلاف ایک آتش فشان کی شکل اختیار کرگیا،لاکھوں لوگ شہید کے آبائی قصبہ ترال میںآمڈ آئے ۔دوسرے دن 9 جولائی کو جب برہا ن کا جنازہ اٹھایا گیا تو اہل کشمیر کا سمندر نماز جنازہ میں شرکت کیلئے عید گاہ ترال کی جانب روان دوان تھا،عیدگاہ ترال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود کم پڑ گیا، نماز جنازہ میں پانچ لاکھ سے زائد لوگ شریک تھے۔ پورے مقبوضہ جموں و کشمیر ،آزاد کشمیر ،پاکستان اور دنیا بھر میں اس عظیم شہید کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ اپنی شہادت کے بعد بھی برہان بھارتیوں کا پیچھا کرتا رہا،انکی شہادت کی گونج بھارتی پارلیمنٹ میں بھی سنائی دی ۔ رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے ایوان میں تقریر کے دوران کہا” برہان وانی کی نماز جنازہ میں پانچ لاکھ افراد کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری اُسے بہت پسند کرتے تھے“۔
کشمیری عوام اپنے اس عظیم مجاہد کے تئیں عقیدت کے پھول نچھاورکرنے جوق در جوق سڑکوں پر نکل آئے اور مسلسل کئی ماہ تک مظاہروں کا سلسلہ جار ی رکھا ۔ سفاک بھارتی فوجیوں نے اس انتفادہ کے دوران ڈیڑھ سو سے زائد کشمیری نوجوانوں شہید کیے، پیلٹ چھرے مار کر سینکڑوں نوجوانوں کو بصارت سے محروم کر دیا۔
 بلا شبہ شہید برہان وانی مقبوضہ جموں و کشمیر پرناجائز اور غاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی مزاحمت کی علامت ہیں۔ جب تک بھارت گھمنڈ اور تکبر کے خمار سے باہر آکر کشمیریوں کو انکا غصب شدہ حق خو د ارادیت نہیں دیتا، جموں وکشمیر کی سرزمین پر برہان وانی جیسے غیور نوجوان پید ا ہوتے رہیں گے۔
Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button