مضامین

مقبوضہ جموں و کشمیر: 2026 کا سورج، ایک نئی امید یا پھر وہی پرانی سیاہ حقیقت؟


محمد شہباز

آب جبکہ 2025 کا اختتام اور 2026 شروع ہونے جارہا ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں صورتحال جون کی توں ہے، اہل کشمیر پر پابندیاں، آزادی اظہار رائے کا گلہ گھونٹے کا سلسلہ ہنوز جاری ،بھارتی مظالم میں کمی کے بجائے شدت رہی۔گرفتاریاں،جائیداد و املاک کی ضبطی کے نام پر نت نئے ظالمانہ اقدامات بھارتی دعوئوں کا منہ چڑھاتے رہے۔ایسے میں نئے سال کا سورج کیا امیدیں اور توقعات لیکر طلوع ہوگا ؟جب 2025 ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور سال2026  کا آغاز ہونے جارہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات آج بھی پرانی ڈگر پر ہی ہیں۔ کشمیری عوام، جو طویل عرصے سے بھارتی ریاستی جبر اور ننگی بربریت کا سامنا کر رہے ہیں، گزشتہ 79 برسوں سے آزادی، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 2025 کی آخری شام تک کشمیری عوام پر عائد پابندیاں،آزادی اظہار رائے کا مکمل فقدان اور بھارتی ریاستی مظالم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس تمام تر صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا نیا سال کشمیری عوام کیلئے نئی امیدیں اور توقعات لیکر آئے گا یا پھر یہ ایک اور سال ہوگا، جس میں وہ اپنے حقوق کیلئے مزید جدوجہد کریں گے۔جس میں جانی و مالی قربانیاں،بھارتی ظلم و ستم اور دہشت گردی کے دوسرے ادوار شامل ہوں گے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال05 اگست 2019 میں بھارتی حکومت کی طرف سے خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے بعد مزید پیچیدہ ہو گئی۔ ریاست کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بھارت نے یہاں مختلف پابندیاں عائد کیں، جن میں اہل کشمیر پر فوجی کریک ڈاون مسلط، موبائل اورانٹرنیٹ کی بندش، مواصلاتی جبر،سیاسی رہنمائوں کی گرفتاری اور عوامی اجتماعات پر پابندی بطور خاص شامل ہیں۔ ان جابرانہ اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کی آواز کو دبا دیا گیا ہے۔2025 کے دوران کشمیری عوام کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی پوری شدت کیساتھ جاری رہا۔ بھارتی فوجیوں نے نہ صرف تحریک آزادی کے رہنمائوں کوبھارت کی دور دراز بالخصوص تہاڑ اور دوسری جیلوں میں ڈالا بلکہ عام شہریوں کو بھی بغیر کسی الزام اور بلاجواز طور پر گرفتار کر لیا۔ کئی سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے سرگرم محافظوں کو غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا۔ ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جو صرف کشمیری عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہیں۔جن میں خرم پرویز’ عرفان معراج  اور دوسرے صحافی شامل ہیں۔اس کیساتھ ساتھ عام کشمیری نوجوانوں کو بلاوجہ گرفتار کر کے انہیں تشویشناک حالات میں جیلوں میں رکھا گیا۔ ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ PSAاور UAPAعائد کرکے بغیر کسی مقدمہ چلائے سالوں بھارتی جیلوں میں قید رکھنے کا بندوبست کیا گیا۔نہ ان کے لواحقین ان سے ملنے جاسکتے ہیں اور نہ ہی عدالتیں ان معصوم اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی رہائی کیلئے کوئی نوٹس لیتی ہیں۔آزادی پسند قیادت جن میں خواتین بھی شامل ہیں،طویل عرصے کی قید وبند کی صعوبتوں نے انہیں صحت کی سنگین صورتحال سے دوچار کیا ہے۔شبیر احمد شاہ جو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ تقریبا  40برس بھارتی جیلوں میں گزار چکے ہیں،اس وقت پروسٹیٹ کینسر کی بیماری میں مبتلا عزم و استقامت کی علامت بن چکے ہیں۔یہ ان کی عزم و استقامت ہی ہے،کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے معتبر ادارے نے 1992 میں انہیں ضمیر کے قیدی (Prisoner of Conscience) کا خطاب دیا تھا،آسیہ اندرابی سمیت 40کشمیری خواتین بھی محض آزادی کا نعرہ مستانہ بلند کرنے کی پاداش میں بھارتی جیلوں میں قید کی جاچکی ہیں۔چار ہزار سے زائد کشمیری نوجوان مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارتی جیلوں میں بند ہیں۔ان میں سے اکثریت کو 05اگست2019کے موقع پر گرفتار کیا گیا۔بھارتی فوجیوں کے جابرانہ طرز عمل اورتحریک آزادی کو کچلنے کی مسلسل کوششوں کے باوجود اہل کشمیر اپنے حق خود ارادیت کیلئے جدوجہد سے نہ دستبردار ہوئے اور نہ ہی بھارتی جبر کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیری عوام کیساتھ ہونے والے مظالم کا سلسلہ بھی نہیں رکا۔ یہاں تک کہ کشمیری عوام کی جائیدادو املاک کو ضبط کرنے کا عمل بھی جاری رہا۔ کشمیری عوام کی زمینوں کو چھین کر انہیں بے گھر کرنے کی کوششیں ہنوز جاری ہیں۔اس تناظر میں یہ بات اب زبان زد عام ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر کشمیریوں یعنی بھارتیوں کو آباد کرنے کی کوششیں کررہی ہیں، تاکہ مقامی آبادی کا تناسب بگاڑا جائے اور یوں ریاست کے پشتنی باشندوں کی آواز کو مزید کمزور کیا جاسکے۔بھارتی ظلم وجبر کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ جس کے نتیجے میں کشمیری عوام کو اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے نہیں دی جا رہی۔چاہیے وہ طلبا کی ریزویشن کا معاملہ ہو،یا اہل کشمیر کیلئے نوکریوں کا کوٹہ۔ان پر بھی اب ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔مسلمان کشمیری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف اور ان کی جگہ بھارتیوں کو بھرتی کیا جاتا ہے۔کشمیری صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ کے دوران بھارتی حکومت کی سخت نگرانی کا سامنا ہے، اگر کوئی صحافی زمینی حقائق کے عین مطابق رپورٹنگ کرنے کی کوشش میں بھارتی مظالم پر کسی قسم کی تنقید کرتا ہے، اس پر قابض بھارتی حکام کی طرف سے شدید دباو ڈالا جاتا ہے۔ نتیجتا مقبوضہ جموں و کشمیر میں میڈیا کی آزادی تقریبا اپنی موت مر چکی ہے اور یوں آزادی صحافت کی راہ میں شدید رکاوٹیں حائل کی گئی ہیں۔اقتصادی لحاظ سے بھی کشمیری عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری عوام پر عائد کی جانے والی ناروا پابندیوں اور روزمرہ  زندگی کو متاثر کرنے والے اقدامات کی وجہ سے ریاستی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں، سیاحت جو مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، تقریبا ختم ہو چکی ہے اور کشمیری کسانوں کی زمینوں کو کبھی ریلوے منصوبے تو کبھی دوسرے بہانے غیر قانونی طور پر ضبط کیا جا رہا ہے۔ یوں کشمیری عوام کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے۔کشمیری طلبا اور تاجروں کو بھارتی ریاستوں میں ہندتوا غنڈے آئے روز اپنے حملوں کا نشانہ بناتے ہیں۔انہیں جئے شرم رام اور بھارت ماتا کی جئے کے نعرے لگانے کی ویڈیوز وائرل ہونا اب معمول بن چکا ہے۔

ان حالات میں نئے سال 2026 کے آغاز پر ہر کشمیری کے ذہن میں یہ سوال گردش کرتا ہے کہ آیا یہ سال کشمیری عوام کیلئے نئی امیدیں اور توقعات لیکر آئے گا یا پھر کشمیری عوام کو مزید جبر و استبداد کا سامنا کرنا پڑے گا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں عوامی آواز کی قوت کو کچلنے کیلئے ا گرچہ بھارت نے جبر و تشدد کے تمام حربے آزما لیے ہیں، مگر کشمیری عوام نے اپنی آزادی کیلئے آواز اٹھانے کا سلسلہ نہ کبھی بند کیا اور نہ ہی اس پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ گو کہ بین الاقوامی سطح پر کشمیری عوام کی آواز سننے کے عمل میں حد درجہ غفلت برتی جاتی ہے،لیکن نقار خانے میں طوطے کی آواز کی مانند اہل کشمیر کی یہ آواز سننی پڑے گی۔ عالمی برادری کو اپنا کردار نہیں بھولنا چاہیے،کہ محکوم قوموں کو ان کا حق آزادی دلانا ہے ۔عالمی برادری بھارت پر دبائو ڈالے تو بھارت کو کشمیری عوام کے حقوق کا احترام لامحلہ کرنا پڑے گا۔گو کہ بھارت نے تنازعہ کشمیر کو ایک داخلی مسئلہ قرار دیا ہے، لیکن عالمی برادری میں تنازعہ کشمیر پر مسلسل گفت وشنید کی جا رہی ہے۔بھلا یہ تنازعہ کیونکر مخملی پردوں کے پیچھے چھپایا جاسکتا ہے،کہ اس پر اقوام متحدہ نے 16قراردادیں بھارت اور پاکستان کی رضا مندی سے منظور اور پھر بھارت نے اقوام عالم کو گواہ ٹھہرا کر کشمیری عوام کیساتھ حق خودارادیت کا وعدہ کیا ہے۔یقینا 2026 میں عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر توجہ بڑھنے کی توقع ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تحریک آزادی کشمیر کو تقویت ملنے سے بھارت پر دبائو میں اضافہ ہو سکتا ہے۔یوں 2026 میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی تبدیلی کی امید بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں ایک نیا عزم پیدا ہو سکتا ہے، اور عالمی سطح پر کشمیری عوام کے حقوق کیلئے دباو بڑھنے سے بھارت کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر کشمیری عوام کے حقوق کی بات عالمی فورمز پر پوری شدو مد ، تواتر اور سنجیدگی سے اٹھائی جاتی ہے تو بھارت کو اپنی جابرانہ پالیسیوں کو ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔یہی اقدامات مقبوضہ جموں وکشمیر میں امن و سکون کا امکان پیدا ہونے کی امید بن سکتے ہیں۔ یوں کشمیری عوام کو آزادی، بنیادی حقوق اور ان کی زمینوں کو واگزار کرنے کا حق ملے گا، اور تب ہی بھارتی فوجی قبضہ ختم ہو گا۔ تاہم، یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی برادری بھارت پر کس حد تک دباو ڈالتی ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کے خلاف کشمیری عوام کی آواز کو سنجیدہ لیا جاتا ہے۔بلاشبہ2025 کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں موہوم سی امید بھی پیدا نہ ہوئی، لیکن ایک مثبت پہلو ضرور ہے ،جس سے کسی صورت انکار ممکن نہیں ،کشمیری عوام کی جدوجہد جاری ہے۔ 2026 کا سورج کشمیری عوام کیلئے ایک نیا آغاز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ عالمی برادری کشمیری عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھائے، اور بھارت کو مجبور کرے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کا احترام کرے۔ کشمیری عوام کے عزم و ہمت میں کمی نہیں آئی،حالات کے تمام تر جبر کے باجود وہ بھارت کے خلاف برسر پیکار ہیں،عظیم اور لازوال قربانیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اہل کشمیر کی یہ جدوجہد آزادی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔یہی آزادی ان کی قربانیوں کا ثمر اور ان کے زخموں کا مدوا ہوسکتی ہے۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button