
ارشد میر
دنیا بھر میں کل خاندانوں کا عالمی دن منایا گیا۔ 1993 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرکے اس دن کو قائم کیا جس کا مقصد خاندان کی اہمیت اوراس کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگر کرنا اور ان سماجی، سیاسی، معاشی اور انسانی عوامل کی نشاندہی کرنا ہے جو خاندانوں کی بقا اور خوشحالی کو متاثر کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں اس دن کو محبت، قربت اور خاندانی رشتوں کے جشن کے طور پر منایا جاتا ہےمگر جب یہی دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی روح زخمی اور اس کا مقصد پامال ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہاں خاندان خوشیوں، تحفظ اور سکون کی علامت نہیں بلکہ جدائی، خوف، اذیت اور مسلسل بے یقینی کی تصویر بن چکے ہیں۔ خاندان نہ جشن منا تے ہیں، نہ سکون سے زندگی گزار تے ہیں، بلکہ ان کے حصے میں صرف جدائی، اذیت، خوف اور انتظار ہے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ اٹھہتر برسوں سے جاری بھارتی تسلط نے صرف ایک سرزمین کو نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں کو تاراج کیا ہے۔ اس خطے میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو ظلم و ستم کی چکی میں نہ پسا ہو۔ دنیا میں شاید ہی کوئی اور خطہ ہو جہاں اتنی بڑی تعداد میں قابض فوج تعینات ہو اور جہاں روزمرہ زندگی خوف اور غیر یقینی کے سائے میں بسر کی جاتی ہو۔۔ ہزاروں نوجوان جبری گمشدگیوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ کئی مائیں دہائیوں سے دروازے پر نظریں جمائے اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔ کئی بیویاں اپنے شوہروں کے زندہ یا مردہ ہونے کی خبر کے بغیر نیم بیوگی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہزاروں بچے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہو کر جوان ہو گئے مگر آج بھی ان کے ذہنوں میں ایک سوال زندہ ہے کہ ان کا قصور کیا تھا؟ کشمیری خاندانوں کے لیے صبح کا آغاز اس دعا سے ہوتا ہے کہ ان کے پیارے شام تک سلامت گھر لوٹ آئیں کیونکہ کسی بھی لمحے بھارتی فوج کے چھاپے، گرفتاری یا فائرنگ ان کی زندگی کو بدل سکتے ہیں۔
جبری گمشدگیاں مقبوضہ کشمیر کا ایک دردناک باب ہیں۔ ہزاروں نوجوان، طلبہ، کارکن اور عام شہری برسہا برس سے لاپتہ ہیں۔ ان کی مائیں راہ تکتے بینائی کھو بیٹھی ہیں، باپ اب بھی امید کا دامن تھامے عدالتوں اور تھانوں کے چکر لگا رہے ہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی واپسی کی دعائیں مانگ رہی ہیں اور بچے اپنے باپ کے لمس کو ترس رہے ہیں۔ یہ صرف افراد کی گمشدگی نہیں بلکہ پورے خاندانوں کی امیدوں، خوابوں اور خوشیوں کا اغوا ہے۔ جب کسی گھر کا واحد کفیل لاپتہ ہو جائے یا قتل کر دیا جائے تو اس کے بعد اس خاندان پر معاشی، سماجی اور نفسیاتی مصائب کا جو پہاڑ ٹوٹتا ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
بھارت نے کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے قانون کو انصاف کے بجائے ظلم کا ہتھیار بنا رکھاہے۔ AFSPA،PSAاور UAPA جیسے کالے قوانین نے بھارتی فورسز کو ایسی بے لگام طاقت دی ہے جس کے تحت کسی کو بھی بغیر مقدمے کے گرفتار کرنا، مہینوں بلکہ برسوں تک قید رکھنا اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا معمول بن چکا ہے۔ ہزاروں کشمیری نوجوان، سیاسی کارکن، صحافی اور حریت رہنما جیلوں میں بند ہیں۔ ان کے اہل خانہ زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا ہیں۔ان پر جرم صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے حقِ خودارادیت، اپنی شناخت اور اپنی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کو برسوں سے صرف عدالتوں کے احاطوں میں دیکھتی ہیں، کئی بچے اپنے والد کو صرف جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہچانتے ہیں اور کئی بیویاں عمر بھر انتظار کی اذیت سہتی ہیں۔ اور بہت سی مائیں، بچے اور بیویاں اتنی خوش قسمت نہیں کہ انھیں عدالتوں کے احاطوں، اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی اپنے پیارے نظر آئیں۔ ان کے پیارے دانستہ طور بھارتی جیلوں میں قید کئے گئے ہیں کہ وہ ان سے مل نہ سکیں۔
اس ظلم کی ایک اور بھیانک صورت یہ ہے کہ شہادت کے بعد بھی کشمیری خاندانوں کو اپنے پیاروں کے آخری دیدار اور باعزت تدفین کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔انھیں بیسیوں میل دور جنگلی علاقوں میں دفنادیا جاتا ہے۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑھ کر اذیت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جرم بے گناہی میں قتل کئے گئے اپنے بیٹے کی صرف ایک جھلک دیکھنے کو ترس جائے؟ ایک بہن اپنے بھائی کی میت کے ساتھ لپٹ نہ سکے، اسے آخری سلام نہ کہہ پائے اور کوہ ِغم اٹھائے باپ اپنے بیٹے کے جنازے کو کندھا دینے کے حق سے محروم رہے؟ اسی طرح ایک بچے کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ اس کا بچپن جیل کی دیواروں کے سائے میں گزرے؟یہ صرف ظلم نہیں بلکہ انسانیت کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔
کشمیری خاندانوں کی ایک اور بڑی اذیت ہجرت اور جدائی کا المیہ ہے۔ بھارتی مظالم کے باعث لاکھوں کشمیری اپنے گھروں، زمینوں، کھیتوں اور یادوں کو چھوڑ کر آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کی رپورٹ کے مطابق تقریباً پندرہ لاکھ کشمیری اس وقت آزاد کشمیر اور پاکستان میں مقیم ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف اپنی سرزمین سے جدا ہوئے بلکہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور عزیزوں سے بھی بچھڑ گئے۔بھارتی حکومت نے ان بچھڑے خاندانوں کو ملنے کے مواقع فراہم کرنے کے بجائے ان کے درمیان رابطے کے تمام ذرائع منقطع کررکھے ہیں۔وہ اس جدید دور میں فون پر بات نہیں کرسکتے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقہ کے لوگوں سے کہہ رکھا ہے کہ اگر کسی کو اپنے بچھڑے عزیز سے بات کرتے پایا گیا تو اسکی جائیداد ضبط کرلی جائے گی۔
لائن آف کنٹرول نے صرف زمین کو تقسیم نہیں کیا بلکہ دلوں، خاندانوں اور نسلوں کو جدا کر دیا ہے۔ حال ہی میں کیرن سیکٹر میں پیش آنے والا وہ دلخراش منظر پوری انسانیت کے لیے سوالیہ نشان بنا جب مقبوضہ حصے کے ایک شہری کی میت دریائے نیلم کے کنارے لائی گئی تاکہ دوسری جانب موجود اس کے بہن بھائی دور سے اپنے عزیز کو آخری بار دیکھ سکیں۔وہ جنازے میں شریک نہ ہو سکے، تدفین میں شامل نہ ہو سکے، صرف فاصلے سے آنسو بہا سکے۔ کیا اس سے بڑا انسانی المیہ ہو سکتا ہے کہ زندہ رشتے صرف سرحد کی لکیر کی وجہ سے ایک دوسرے سے مل نہ سکیں؟ یہ منظر صرف ایک خاندان کی بے بسی نہیں بلکہ پورے کشمیر کی اجتماعی اذیت کی تصویر تھا۔
یہ تمام مظالم عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کے ضمیر پر ایک بھاری سوال ہیں۔ وہ اقوامِ متحدہ جس نے کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کی قراردادیں منظور کیں، آج اسی کے سامنے کشمیری خاندان دہائیوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ اگر خاندان واقعی عالمی اقدار کا حصہ ہیں، اگر انسانی وقار اور بنیادی حقوق واقعی بین الاقوامی اصول ہیں تو پھر کشمیری خاندانوں کی چیخیں ان ایوانوں میں کیوں نہیں سنی جاتیں؟ ان کے آنسو عالمی ضمیر کو کیوں نہیں جھنجھوڑتے؟
کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھی عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر نظر بند کشمیری رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کے اہلِ خانہ کی مدد کرے اور تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرے۔ حقیقت یہی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض زمین کا تنازع نہیں، بلکہ یہ لاکھوں بکھرے خاندانوں، ادھوری ملاقاتوں، خاموش آنکھوں اور سلگتے دلوں کی داستان اور ایک قوم کی بقاء ،عزت اور مستقبل کا سوال ہے۔
ایسے عالمی دن پر دنیا کو صرف تقریبات اور نعروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کشمیر کے ان خاندانوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جن کے گھروں میں خوشی کی جگہ خاموشی، تحفظ کی جگہ خوف، اور ملاقاتوں کی جگہ حسرت نے لے رکھی ہے۔کشمیر کا مسئلہ فوجی طاقت سے کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔ جب تک کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق نہیں ملتا، تب تک ان کے خاندان اسی طرح بکھرتے رہیں گے، مائیں انتظار کرتی رہیں گی، بچے یتیمی کی اذیت سہتے رہیں گے اور خاندانوں کا عالمی دن کشمیر کے لیے جشن نہیں بلکہ ایک ماتمی دن ہی رہے گا۔
دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا حق خود اردایت، انسانی حقوق اور خاندان صرف تقریبات اور قراردادوں کا موضوع ہیں یا واقعی ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ اگر جواب دوسرا ہے تو پھر کشمیر کے بکھرے خاندانوں، قید ہوئی آزادی اور روندے ہوئے انسانی حقوق کی صدائیں سننا ہوں گی کیونکہ ان خاموش چیخوں میں انسانیت کا اصل امتحان پوشیدہ ہے۔








