بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے دورے کے موقع پر مقبوضہ جموں وکشمیر فوجی کیمپ میں تبدیل

سرینگر :کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے موقع پر جموں وکشمیر کو عملی طورپر ایک فوجی کیمپ میں تبدیل کردیاہے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ امیت شاہ کے دورے کا مقصد بھارتی قابض افواج کو کالے قوانین کے تحت مزید اختیارات دیناہے تاکہ وہ کشمیریوں کو مزید ظلم و تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے جذبہ حریت کو کمزور کر سکیں اور انہیں جیلوں میں ڈال سکیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں صورتحال معمول پر آچکی ہے جبکہ مقبوضہ علاقے میں تعینات دس لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج نے وہاں قبرستان کی خاموشی نافذ کر رکھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ نے اپنے دورے کے دوران فوج، پیراملٹری اورپولیس اہلکاروں کو حریت رہنمائوں اور کارکنوں کے گھروں پر کے مزید چھاپے مارنے اور تلاشی کی کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان کی آزادی کی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔حریت ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام کو اپنے پیدائشی حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے کی سزا دی جا رہی ہے، جس کی ضمانت عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے انہیں فراہم کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ نے بھارتی قابض فوج کو جموں وکشمیر میں ہندوتوا پالیسیوں کو نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔عبدالرشید منہاس نے افسوس کا اظہارکیا کہ مودی حکومت نے اگست 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا اور اس کے بعد سے سینکڑوں حریت رہنمائ، کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان مسلسل جیلوں میں غیر قانونی طورپر قید ہیں ۔حریت ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے اور مقبوضہ علاقے کی زمینی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے اپنا نمائندہ وفد جموں وکشمیر بھیجے۔






