مقبوضہ کشمیر : تین درجن سے زیادہ کشمیری سیاسی نظربند بھارتی جیلوں میں منتقل

سرینگر:بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے غیر قانونی طور پرزیرقبضہ جموں و کشمیر سے تین درجن سے زائد کشمیری سیاسی قیدیوں کو مقبوضہ علاقے سے بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عالم دین اور سماجی کارکن محمود الحسن شاہ سمیت کم سے کم 46 سیاسی قیدیوں کو سرینگر سینٹرل جیل، کوٹ بھلوال جیل جموں، راجوری اور پونچھ اضلاع کی جیلوں اور دیگر ذیلی جیلوں سمیت متعدد حراستی مراکز سے بھارتی ریاستوں ہریانہ اور اتر پردیش کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔کشمیری نظربندوں کی دور دراز بھارتی جیلوں میں منتقل کی وجہ سے نظربندوں کے اہلخانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان بھاری مالی اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے ۔بھارتی حکومت کے اس اقدام کا مقصد کشمیری قیدیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اورتنازعہ کشمیر سے متعلق اپنے موقف کو تبدیل کرنے کیلئے مجبور کرنا ہے ۔کشمیری نظربندوں کے اہلخانہ کوشدید پریشانی کا سامنا ہے، بہت سے لوگ اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے درکار سفری اخراجات برداشت کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ الجزیرہ اور بی بی سی جیسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اپنی رپورٹوں میں کشمیریوں کے ان خدشات کو اجاگر کیا ہے۔مبصرین کے مطابق مودی حکومت کے اس اقدام کامقصد کشمیریوں کو استصواب رائے اور حق خودارادیت کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا بھی ہے ۔ کشمیریوں کے اس ناقابل تنسیخ حق کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ نے اپنی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کی ہے ۔





)


