اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کاحل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے ناگزیر ہے، چیئرمین سینٹ

اقوام متحدہ:چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کاحل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سیدیوسف رضا گیلانی کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد نے سالانہ آئی پی یو پارلیمانی سماعت 2026 کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک سے یو این ہیڈکوارٹر میں ملاقات کی۔چیئرمین سینیٹ نے افسوس کا اظہار کیاکہ کشمیری عوام تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوا م متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمدکے منتظر ہیں اور بھارت نے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کر دیا ہے۔بھارت کا یہ اقدام سندھ طاس معاہدے کی شقوں اور سرحد پار آبی وسائل سے متعلق بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی اقدامات سے24کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں اور ذریعہ معاش پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں خصوصا ایک ایسے وقت میں جب موسمیاتی دبائو اور پانی کی قلت باہمی تعاون اور بین الاقوامی معاہدوں کے سخت احترام کا تقاضا کرتے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی نے اقوام متحدہ کو کثیرالجہتی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور تنازعات کے پرامن حل کی دیرینہ پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔صدر جنرل اسمبلی کی توجہ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کی جانب مبذول کراتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین کومسلسل پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے عوام بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کے مشن کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔اس موقع پر صدر جنرل اسمبلی اینالینا بیئربوک نے پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پرپاکستان کی حکومت اور عوامِ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر فاروق ایچ نائیک، سینیٹر محمد عبدالقادر اور سینیٹر سید فیصل علی سبزواری بھی شریک تھے۔







