مقبوضہ کشمیر :سیاسی اختلاف کو منظم طریقے سے مجرم بنانے پر بھارتی عدالتی نظام کی مذمت
بارسلونا، اسپین:معروف کشمیری رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن الطاف حسین وانی اور تحریک کشمیر اسپین کے صدر محمد شفیق تبسم نے سیاسی اختلاف کو منظم طریقے سے مجرم بنانے پر بھارتی عدالتی نظام کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق الطاف حسین وانی اور شفیق تبسم نے بارسلونا میں تحریک کشمیر اسپین کی میزبانی میں منعقدہ ایک اجتماع سے خطاب کر تے ہوئے آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں کو سنائی گئی طویل قید کی سزائوں کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی عدلیہ نے خواتین رہنمائوں کو انکے سیاسی نظریات اور حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایاہے۔تقریب کے مقررین نے مقبوضہ کشمیرمیں بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتے ہوئے بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑھتے ہوئے ظلم و تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں کالے قوانین کے غلط استعمال کے ذریعے جائز سیاسی خواہش کو دبانے اورحریت کارکنوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے حراست میں لیا جاتاہے ۔الطاف حسین وانی نے کشمیری کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ مقامی برادریوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو کشمیر کاز سے آگاہ کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے جدوجہد آزادی کشمیر کی تاریخی اور انسانی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کمیونٹی کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اپنے میزبان ممالک میں سچائی اور انصاف کے سفیر کے طور پر کام کریں۔محمد شفیق تبسم نے تحریک کشمیر، سپین کے کشمیریوں کی حالت زار کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کے پرامن حل کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔تقریب میں کشمیری تارکین وطن اور مقامی سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پرسخت تشویش کا اظہار کیا ۔







