جنیوا

مقبوضہ کشمیر، غزہ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خاتمے کیلئے عالمی برادری کی مداخلت ناگزیر ہے ، مقررین

جنیوا: انسانی حقوق کے ماہرین اور کارکنوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59ویں اجلاس کے دوران ایک سائیڈ لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے،تنازعات والے علاقوں خاص طور پر بھار ت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر اور غزہ میں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ورلڈ مسلم کانگریس اور کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر اہتمام سیمینار نے ریاستوں کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا کہ وہ تنازعات کے دوران بھی انسانی حقوق کو برقرار رکھیں، جیسا کہ متعدد بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے معاہدوں میں بیان کیا گیا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر پروفیسر جوزف ورونکا، میری سکلی، بیرسٹر تنویر ہاشم منیم، ڈاکٹر بلریم مصطفیٰ اور شمیم شال شامل تھے۔ سیمینار کی نظامت الطاف حسین وانی چیئرمین کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز نے کی۔
مقررین نے جنیوا کنونشنز، بین الاقوامی انسانی حقوق ،بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ قوانین تشدد، بلا جواز حراست اور ماورائے عدالت قتل کی ممانعت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی عدم توجہی کی وجہ سے بھارت کو مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا سلسلہ جاری رکھنے کی شہ مل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کے تحت بھارتی فورسز کو بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور وہ بے گناہ کشمیریوںکو وحشانہ مظالم کا نشانہ بنا رہے ہیںکیونکہ ان قوانین کی وجہ سے انہیں اسثنی ٰ حاصل ہے۔مقررین نے کہا کہ دفعہ370 منسوخی کے بعد بھارت نے مقوضہ علاقے میں مظالم میں تیزی لائی ہے، کشمیری اس وقت سخت مشکلات کا شکار ہیں ، ان کی املاک ضبط کی جا رہی ہیں اور ملازمتوں سے برطرف کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی عدالتیں بھی کشمیریوں کو انصاف کی فراہمی سے قاصر ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرائے۔مقررین نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کیوجہ سے ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے اور پورا جنوبی ایشا مسلسل ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے لہذا اس مسئلے کا پرا من اور منصفانہ حل ناگزیر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button