جموں

جموں : بھارتی پولیس نے کانگریس کو ریاستی درجے کی بحالی کیلئے احتجاجی ریلی کی اجازت نہیں دی

پارٹی صدر طارق کرہ اور جنرل سیکرٹری جی اے میر سمیت بیسیوں کارکن گرفتار

جموں:بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پولیس نے کانگریس کو ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے ایک احتجاجی ریلی کی اجازت نہیں دی اور پارٹی کے صدر طارق حمید کرہ اور جنرل سیکرٹری جی اے میر سمیت کئی رہنماﺅں اور کارکنوں کو حراست میں لیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کانگریس مقبوضہ جموں وکشمیر شاخ کو ”ہماری ریاست ہمارا حق“ کے بینر تلے منعقد ہونے والی ریلی کی اجازت نہیں دی۔کرہ اور جے اے میر کی قیادت میں سینکڑوں کانگریسی کارکن جموں کے قلب میں واقع شہیدی چوک پر پارٹی ہیڈ کوارٹر میں جمع ہوئے۔وہ مقبوضہ علاقے میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو یادداشت پیش کرنے کے لیے راج بھون (گورنر ہاﺅں)تک مارچ کرنا چاہ رہے تھے لیکن پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کر کے انہیںآگے بڑھنے سے روک دیا اور کرہ اور میرسمیت بیسیوں کارکن گرفتار کر لیے۔
دریں اثنا طارق حمید کرہ نے ایک بیان میں پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انتظامیہ کی بوکھلاہٹ ظاہر ہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وہ لیفٹیننٹ گورنرکو یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے جس میں لوگوںکی خواہش کا ذکر تھا لیکن ہمیں ایسانہیں کرنے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر اور جموں میں احتجاج سے روکنے کے باوجود ہم دلی جائیں گے اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز احتجاج کریں گے۔انہوںنے کہاکہ ہم پارلیمنٹ کا گھیراﺅ کرنے کی بھی کوشش کریں گے اوربی جے پی کی اس بہری، اندھی اور معذور حکومت کو جگانے کی کوشش کریں گے تاکہ وہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ دے۔یاد رہے کہ بھارتی پولیس نے گزشتہ روز کانگریس کو سرینگر میں بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی تھی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button