شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کی مذمت
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے دلی ہائیکورٹ کیطرف سے تنظیم کے نظربند چیئرمین شبیر احمد شاہ کی درخواست ضمانت مسترد کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”ڈی ایف پی “کے ترجمان ایڈوکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارتی ایجنسیاں ایک طویل عرصے سے شبیر شاہ پر جھوٹے الزامات عائد کر رہی ہیں، لیکن آج تک کسی بھی الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ شبیر احمد شاہ جھوٹے مقدمات میں گزشتہ آٹھ برسوں سے دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں ، آج تک ان کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ شبیر احمد شاہ اور غیر قانونی طور پر نظر بند دیگر حریت رہنماﺅں کو بھارتی قبضے کو چیلنج کرنے کی پاداش میں بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی عدالتیں ضمانت نہ دیکر انکی نظر بندی کی طول دے رہی ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ بھارتی عدلیہ مکمل طور پر سیاسی دباﺅ کے تحت کام کر رہی ہے اور عدل و انصاف کی دھجیاں اڑا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔
ترجمان نے شبیر شاہ کے صبر واستقامت اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریات کی پاداش میں اپنی زندگی کا نصف سے زائد حصہ جیلوں میں گزارا ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیرنظر بندوں کے خلاف عدالتی جبر کا موثر نوٹس لیں اور شبیر احمد شاہ اور دیگر اسیر رہنماﺅں فوری رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔یادر ہے کہ دلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز شبیر احمد شاہ کی ایک جھوٹے مقدمے میں درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔







