بھارت

وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر آئینی ، مذہبی آزادی کے منافی ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مودی حکومت کی کابینہ کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے’جن گن من‘ کے مساوی درجہ دینے ، اسکے تمام چھ بند لازمی قراردینے اور تمام سرکاری دفاتر اورتعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بورڈ نے اس فیصلے کو بھارتی دستور کی بنیادی روح ، مذہی آزادی اور سیکولر اقدار کے سراسر منافی قرار دیا ہے۔بورڈ نے حکومت نے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو فوری واپس لے ۔ بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا فیصلہ نہ صرف غیر آئینی اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے مذہبی تنوع اور آئینی اقدار کے بھی خلاف ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی ہے ۔ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاﺅں کی تعریف کی گئی ہے اور ان میں عبادت کا جو تصور موجود ہے ، وہ مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ توحید سے براہ راست متصادم ہے، اسلام صرف اور صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی قبیل کے شرک کوقبول نہیں کرتا ۔ انہوںنے کہا کہ ملک کی وحدت و سالمیت جبر یا مذہبی بالا دستی سے نہیں بلکہ آئین ، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے ، بی جے پی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے باز رہے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہوں ۔ مسلم پرسنل لابورڈ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو فوری طورپر واپس نہ لیا بورڈ اسکے خلاف عدالت جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button