پاکستان کا تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ
کلبھوشن یادیو کیس بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتا ہے، کلبھوشن یادیو کیس بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا واضح ثبوت ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت کے غیرقانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہونے والے مظالم عالمی برادری سے ہرگز پوشیدہ نہیں اور وہ اسکی گواہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری رہنماوں کے ساتھ ہونے والے مظالم قابل مذمت ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تمام کشمیری سیاسی قیدیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کرتاہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا، بھارت کی جانب سے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنا قانونی اور سیاسی حیثیت نہیں رکھتا۔انہوں نے مریکا ایران مذاکرات کے حوالے سے بتایا کہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایران کے دو دورے کیے اورایرانی قیادت کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں جن میں پاک ایران دو طرفہ تعلقات اور سکیورٹی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 17 مئی کو سعودی عرب اور یو اے ای کی فضائی حدود میں ڈرون حملوں کے واقعات پیش آئے، ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، پاکستان نے ڈرون واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور ان کی سخت الفاظ میں مذمت کی، پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ نہیں ہوں گے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان امن کوششوں کے حوالے سے مکمل طور پر متحد اور ایک پیج پر ہے، اس حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، امن کوششیں قومی سطح کی مشترکہ کاوش ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی لازوال قربانیاں دنیا کےسامنے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی،اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاو پر تفصیلی مشاورت ہوئی، پاکستان اور روس نے عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا،اگلا اجلاس2027 میں اسلام آباد میں ہوگا۔





