بھارت :منی پور میں جاری بحران بی جے پی کی ریاستی دہشتگردی ،ناقص انتظامی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے

امپھال: ناقدین بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں جاری بحران کو بی جے پی حکومت کی ”ریاستی دہشتگردی“ اور ناقص انتظامی حکمتِ عملی کا نتیجہ قراردے رہے ہیں جہاں صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریاست میںمزید6 شہری لاپتہ ہو گئے ہیں جس سے متاثرہ خاندانوں میں شدید خوف و غصہ پیدا ہواہے۔ منی پور میں لوگوں نے فوج کا سرچ آپریشن روک دیا۔آپریشن کے دوران کشیدگی اور رکاوٹوں نے زمینی حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ حالیہ واقعات سے حکومتی دعووں پر سوال اٹھ رہے ہیں اور متاثرین فوری انصاف، شفاف تحقیقات اور امن کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مئی 2023 میں شروع ہونے والے بحران کے حوالے سے بھارتی حکومت کا طرزِ عمل واضح طور پر شہریوں کے تحفظ اور امن کی بحالی میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ 260 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، 60ہزار سے زیادہ بے گھر ہوئے ہیں، ہزاروں گھروں کونذرآتش کیاگیا اور مذہبی مقامات تباہ ہوئے جسے ایک سنگین انسانی المیے کی عکاسی ہوتی ہے۔ اپریل 2026 میں ترونگلابی بم دھماکے سمیت جس میں دو میتی بچوں کی موت ہوئی اور ان کی والدہ زخمی ہوئیں، حالیہ حملے احساس عدم تحفظ اور عام شہریوں کے غیر محفوظ ہونے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس دھماکے کے بعد مظاہرین پربھارتی فورسز کی فائرنگ سے جس میں مزید دو افراد ہلاک ہوئے، ہجوم کنٹرول کرنے میں ناکامی اور جوابدہی کے فقدان کی نشاندہی ہوتی ہے۔مئی 2026 کا حملہ جس میں تین چرچ رہنما مارے گئے اور اس کے بعد ہونے والے اغواجبکہ چھ ناگا شہری تاحال لاپتہ ہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تشدد میںمسلسل عام شہریوں اور برادری کے رہنماو¿ں کو نشانہ بنا یاجارہا ہے۔لاپتہ ناگا شہریوں کی تلاش کی کارروائیوں میں رکاوٹیں کوآرڈینیشن کی ناکامی اور ممکنہ مقامی مداخلت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ناقدین مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر تاخیر سے مداخلت، میتی گروپ کے حق میں جانبداری اور مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنے میں ناکامی کے الزامات لگاتے ہیں۔ زمین، ریزرویشن اور سیاسی نمائندگی سے متعلق دیرینہ شکایات حل نہیں ہو سکیں جس سے تشدد کا سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی عدم توجہ اور امن کے لیے سست و غیر مستقل اقدامات نے برادریوں کے درمیان عدم اعتماد کو بڑھا دیا ہے۔ بفر زونز کا قیام، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے نیٹ ورکس یہ ظاہر کرتے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں بدامنی ایک منظم شکل اختیار کر چکی ہے۔متاثرین کے اہل خانہ انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ واقعات بغیر کسی قابلِ اعتماد تحقیقات یا مقدمات کے جاری ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ منی پور میں بی جے پی حکومت کی بدعنوانی اور ناکامیاں واضح ہیں، مسلسل پرتشددکارروائیاں ریاستی سرپرستی میں ہونے والا ظلم ہے بلکہ مودی حکومت پیچیدہ حالات کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت منی پور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کوغیر جانبدار رکھنے، اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنانے اور مقامی و قومی سطح پر اعتماد بحال کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔







