بھارت

ہندو توا غنڈوں کے بہیمانہ سلوک کا نشانہ بننے والا معمر مسلمان ٹیکسی ڈرائیو ر پیشہ چھوٹے پر مجبور

لکھنو:بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کے بہیمانہ سلوک کا نشانہ بننے والے ایک 60 سالہ مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے دلبرداشتہ ہو کر اپنا پیشہ چھوڑنے اور کار فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ہندو توا غندوں نے کچھ روز قبل محمد رئیس نامی معمر ٹیکسی ڈرائیورکو سخت تذلیل کا نشانہ بنایا تھا اور جئے شری رام کا نعرہ نہ لگانے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔
واقعے کے حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں غنڈوں کو کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ایک باریش معمر شخص کو ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں غنڈوں کو مسلمان شخص کو یہ کہتے ہوئے اچھی طرح سنا جاسکتا ہے کہ ”توتین روز کے اندر اندر“جئے شری رام کا نعرہ ضرور لگائے گا۔
حملہ آوروں نے مسلمان شخص کے چہرے پر تھپڑ بھی مارا ۔ بعد ازاں حملہ آور راہگیروں کو قریب آتے دیکھ کر فرار ہو گئے تھے۔
رئیس احمد نے اب ایک ویڈیوجاری کی ہے جس میں انہیں بھرائی ہوئی آواز میں یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے” میں نے سوچا تھا کہ جب تک اللہ مجھے زندہ رکھے گا عزت سے کماو¿ں گا لیکن اب میرا دل ٹوٹ گیا ہے، مجھے کچھ کرنے کا دل نہیں کرتا، میں ہمیشہ کے لیے گاڑی چلانا چھوڑ دوں گا اور اسے فروخت کر کے گھر بیٹھوں گا۔“۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button