عالمی ذرائع ابلاغ نے بھارت کی سفارتی کمزوریاں، کواڑ کی علامتی نوعیت بے نقاب کردی

نئی دہلی:بی بی سی سمیت ذرائع ابلاغ کے متعدد عالمی اداروں کی تحقیق پر مبنی ایک رپورٹ میں امریکہ بھارت تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناو¿ کو اجاگر کیاگیا ہے اور نئی دہلی کی سفارتی کمزوریوں اور علاقائی پیچیدگیوں کے باعث کواڈرلیٹرل سیکیورٹی ڈائیلاگ (QUAD) جیسے پلیٹ فارم کی محدود کارکردگی کو بے نقاب کیاگیاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ ایک سال سے دو طرفہ تعلقات کشیدہ ہیں۔کشیدگی میں روس سے بھارت کوتیل کی درآمد پر امریکی پابندیاں اور امریکہ پاکستان تعلقات پر تشویش شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کا مقابلہ کرنے پر امریکی توجہ میں کمی نے نئی دہلی میں اسٹریٹجک خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ اس دورے کو امریکہ بھارت تعلقات کو مستحکم کرنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ کواڑ ملاقات علاقائی تعاون کے لیے علامتی طور پر اہم سمجھی جاتی ہے، اس سے قبل امریکہ-پاکستان کی سفارتی مصروفیات اور جنگ بندی کے کریڈٹ پر تنازعات نے بھارت میں سیاسی بے چینی پیدا کی ہے۔رپورٹ میں ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک اور سفارتی کمزوریاں QUAD جیسے پلیٹ فارم کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت مو¿ثر طریقے سے چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ کہ QUAD کو اکثر ایک محدود یا کم کارکردگی والے فورم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر جب چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہاہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے سخت سفارتی رویے نے سارک کو غیر فعال اور رکن ممالک کے درمیان مسلسل سیاسی تناو¿ کی وجہ سے کمزور کر دیا ہے۔ بھارت میں برکس کی حالیہ میٹنگوں میں بھی رکن ممالک کے درمیان اختلافات اور مختلف قومی مفادات کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے جو اجتماعی پالیسی سازی میں رکاوٹ ہیں۔چار فریقی سیکورٹی ڈائیلاگ امریکہ، بھارت ،جاپان اور آسٹریلیا کے درمیان ایک غیر رسمی اسٹریٹجک فورم ہے۔






