بھارت اس وقت انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے، ملک میں ”اندرونی نو آبادیاتی نظام ”قائم کیا جا رہا ہے، جمعیت علماء ہند
نئی دلی:بھارت میں جمعیت علماء ہند نے کہا ہے کہ ملک اس وقت انتہائی نازک دوراہے پر کھڑا ہے ، گزشتہ چند برسوں میں حکومتی ترجیحات اور سماجی رویوں میںجو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں وہ نہ صرف ایک مخصوص طبقہ بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے باعث تشویش ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق جمعیت علماء ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی زیر صدارت نئی دلی میں ہوا جس میںبھارت کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد ایک متفقہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ نفرت انگیز بیان بازیوں نے ملک کی فضا کو انتہائی خراب کر رکھا ہے ، مذہبی اشتعال انگیزی جو کبھی معاشرے کے حاشیے پر سنائی دیتی تھی ، آج وہ قومی سیاست اور ارباب اقتدار کے بیانات کا حصہ بنتی جا رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ منافرت اب دھمکی آمیز سیاست کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی جمہوری اور آئینی حیثیت کو ایک منظم سوچ کے تحت بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی تقویت میں عدالت کے رویے کا بھی ایک بڑا کردار ہے ،اقلیتوں کی عزت و وقار ، عبادت گاہوں ، تعلیمی اداروں ، قبرستانوں اور مزاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، مختلف بہانوں کی آڑمیں انکے خلاف انہدامی اقدامات کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، ملک کے مختلف حصوں میں ماورائے عدالت قتل، انکائونٹر اور قانون سے ماورا کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اس سب کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔بیان میں کہا گیا کہ حکومت اور اسکے کارندے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا تصور انگریز کے دور میں بھی نہیں کیا گیا۔ ان حالات نے ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ اس ملک میں ”اندرونی نو آبادیاتی نظام ”قائم کیا جا رہا ہے جہاں دبائو ، محرومی اور مسلسل عدم تحفظ کا احساس غالب ہوتا جا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں مذبہی مقامات سے متعلق معاملات کو انصاف ، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جاتا ہے مگر یہاں اسکے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا کہ ووٹنگ اور انتخابی عمل سے متعلق حالیہ پیش رفت نے بھی سنگین سوالات کو جنم دیا ہے ، شہریوں کی شناخت اور شہریت کے نام پر چلنے والی مختلف کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں میں بے چینی پیدا کردی ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ کہ ان اقدامات کا مقصد محض انتخابی فہرستوں کی اصلاح کرنا نہیں بلکہ مخصوص طبقات کی سیاسی نمائندگی کو محدود کرنا ہے .







