مسلسل تیسرے جہاز پر حملے سے بھارتی بحریہ کی ناکامی بے نقاب

نئی دہلی: بھارت کے مسلسل تیسرے جہاز پر حملے سے اپنے بحری جہازوں اور عملے کو زیادہ خطرے والے پانیوں میں تحفظ فراہم کرنے میں بھارت کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین حملہ 11 جون کو ہوا جب ایم ٹی جلویرجو 20 افراد پر مشتمل بھارتی عملے کو لے کر خلیجی علاقے میں جارہا تھا۔ یہ حملہ بھارتی عملے کے ساتھ دو دیگر بحری جہازوں میں آگ لگنے کے چند دن بعد ہوا ہے جس سے سمندری خطرات سے نمٹنے میں بھارت کی بار بار ناکامی اور بحر ہند میں”نیٹ سیکورٹی فراہم کنندہ“ ہونے کے نئی دہلی کے دعوﺅں کا کھوکھلا پن ظاہرہوتا ہے۔8 جون کو ایم ٹی ماریویکس پر جس میں 24 بھارتی شہری سوار تھے، خلیج عمان میں امریکی افواج نے ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر حملہ کیا۔ تمام عملے کو عمانی حکام نے بچا لیا۔9 اور 10 جون کے درمیان ایک اورٹینکر ایم ٹی سیٹبیلو جس میں 24 افرادپر مشتمل بھارتی عملہ سوار تھا، عمان کے علاقے سوہر کے قریب نشانہ بنا۔ حملے میںڈیک کیڈٹ آدتیہ شرما اور انجن فٹر شیوانند چورسیہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ چیف انجینئر پٹنالہ سریش لاپتہ ہے۔اطلاعات کے مطابق یہ جہاز ایرانی تیل لے کر جا رہاتھا۔یہ واقعات کے ان حملوں کے بعد پیش آئےجن میں 18 اپریل کو ایرانی IRGC گن بوٹس کی طرف سے آبنائے ہرمز میں بھارتی پرچم والے جہاز سنمار ہیرالڈ اور جاگ ارناو پر فائرنگ، اور 13 مئی کو عمان کے قریب بھارتی پرچم والے مویشی بردار جہاز MSV/MV حاجی علی کا ڈوب جانا شامل ہیں۔سفیروں کو طلب کرنے اور حملوں کو ناقابل قبول قرار دینے اور سخت الفاظ میں مذمت جاری کرنے کے باوجود بھارت جنگ زدہ علاقوں میں کام کرنے والے بھارتیسمندری جہازوں کو کوئی قابل اعتبار تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بار بار ہونے والے حملے سنگیں خامیوں کو ظاہر کرتا ہے جن میںخطرے کا غلط اندازہ، راستے کاغلط انتخاب، کمزور ڈیٹرنس اور غیر موثر بحری نظام شامل ہیں۔اگرچہ بھارتی سیاست دان بحر ہند کو محفوظ بنانے اور بھارت کو سمندر میں”وشوا گرو“ کے طور پر پیش کررہے ہیں، پابندیوں کے نفاذ، ناکہ بندیوں اور علاقائی دشمنیوں کے درمیان بھارتی پرچم اورعملے والے جہاز آسان ہدف بنے ہوئے ہے۔ بھارتی عملہ بار بار ریسکیو کے لیے غیر ملکی افواج اور علاقائی ممالک پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو کہ سمندری قیادت کا دعویٰ کرنے والے ملک کے لیے ذلت آمیز ہے۔ناقدین کا استدلال ہے کہ واقعات کا یہ تسلسل نئی دہلی کی بلند و بانگ سیاسی بیان بازی اور اس کی کمزور آپریشنل صلاحیتوں کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے۔ نام نہاد ” سیکیورٹی فراہم کنندہ“ کانعرہ محض پروپیگنڈا ثابت ہواہے کیونکہ بھارتی شہری غیر محفوظ ہیں اور بھارتی شپنگ آپریٹرز کو بار بار احتسابی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نئی دہلی کا میری ٹائم بیانیہ جو جھوٹ اور غیر حقیقت پسندانہ عزائم پر مبنی ہے، ان قابل گریز سانحات کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ بھارتی جہازوں پر تازہ ترین حملے گہرے سمندروں میں اپنے لوگوں کی حفاظت میں بھارت کی آپریشنل کمزوری کو ثابت کرتا ہے ۔





